World
روہنگیا مہاجرین کا نو سالہ بحران اور عالمی بے حسی
میانمار سے نقل مکانی کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کے بحران کو نو سال مکمل ہو چکے ہیں لیکن اب بھی لاکھوں افراد کیمپوں میں بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے اس مسئلے کے پائیدار حل کے لیے کوششیں تاحال ناکافی دکھائی دیتی ہیں۔
میانمار میں نسلی امتیاز اور پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں روہنگیا مسلمانوں کی ہجرت کے عمل کو نو سال مکمل ہو چکے ہیں۔ سن 2015 اور اس کے بعد کے برسوں میں میانمار کی فوج کے کریک ڈاؤن کے بعد لاکھوں روہنگیا افراد نے اپنی جان بچانے کے لیے بنگلہ دیش کی سرحدوں کا رخ کیا تھا۔ یہ نو سالہ طویل عرصہ ان لاکھوں مہاجرین کے لیے ایک ایسے انسانی المیے میں تبدیل ہو چکا ہے جس کا کوئی واضح حل تاحال نظر نہیں آ رہا ہے۔ آج بھی کاکس بازار کے کیمپوں میں لاکھوں افراد محدود وسائل اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
اس نو سالہ بحران نے نہ صرف روہنگیا مسلمانوں کی زندگیوں کو اجیرن کر دیا ہے بلکہ خطے کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ بنگلہ دیش، جس نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان پناہ گزینوں کو پناہ دی تھی، اب معاشی بوجھ اور سماجی مسائل کے باعث بین الاقوامی برادری سے مدد کا مسلسل تقاضا کر رہا ہے۔ عالمی ادارے بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ میانمار میں روہنگیا افراد کی واپسی کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں، کیونکہ وہاں تاحال انہیں شہریت کے بنیادی حقوق اور تحفظ فراہم نہیں کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس مسئلے کو نظر انداز کیا گیا تو آنے والی نسلیں مزید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہیں۔ کیمپوں میں مقیم بچوں کی تعلیم، صحت کی سہولیات اور خواتین کے تحفظ کے مسائل ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ خوراک کی قلت اور موسمیاتی تبدیلیاں، خاص طور پر مانسون کے دوران کیمپوں کی تباہی، ان مہاجرین کے لیے ہر سال ایک نیا امتحان بن کر سامنے آتی ہے۔ بین الاقوامی برادری کو اب صرف امداد پر انحصار کرنے کے بجائے سفارتی سطح پر میانمار پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ افراد باعزت طریقے سے اپنے وطن واپس لوٹ سکیں۔
خلاصہ یہ کہ روہنگیا بحران اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی انسانی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔ گزشتہ نو سالوں سے یہ مہاجرین جس کرب سے گزر رہے ہیں، اس کا تقاضا ہے کہ عالمی طاقتیں اپنی سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان مظلوم افراد کے مستقل حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ جب تک میانمار میں روہنگیا افراد کو ان کے نسلی اور مذہبی حقوق کے ساتھ تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک اس بحران کا خاتمہ ممکن نہیں دکھائی دیتا۔ دنیا کی خاموشی ان مہاجرین کے زخموں کو مزید گہرا کر رہی ہے۔