LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں ہسپتال پر اسرائیلی حملے کی پہلی برسی، 22 افراد کی یاد میں تقریب

News Image
غزہ میں ایک سال قبل ہسپتال پر ہونے والے اسرائیلی ڈبل فضائی حملے کی برسی کے موقع پر متاثرین کی یاد میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس افسوسناک واقعے میں مریم دغہ سمیت 22 بے گناہ فلسطینی شہری جاں بحق ہو گئے تھے۔
غزہ کی پٹی میں ایک افسوسناک واقعے کے ایک سال مکمل ہونے پر ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مریم دغہ اور ان کے ساتھ جاں بحق ہونے والے 22 دیگر فلسطینی شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ یہ سانحہ ٹھیک ایک سال قبل اس وقت پیش آیا تھا جب اسرائیلی فوج نے ایک ہسپتال کو نشانہ بناتے ہوئے ڈبل فضائی حملہ کیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں ہسپتال کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور وہاں موجود مریضوں، ان کے تیمار داروں اور طبی عملے سمیت 22 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اس واقعے کو بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے طور پر دیکھا گیا۔ ایک سال گزرنے کے باوجود اس واقعے کی تلخ یادیں مقامی آبادی کے ذہنوں میں تازہ ہیں، جہاں آج بھی ہسپتالوں اور پناہ گزینوں کے مراکز پر حملے جاری ہیں۔ تقریب میں شرکت کرنے والے سوگوار خاندانوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ میں جاری اس انسانی بحران کا نوٹس لیا جائے اور بے گناہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ غزہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مریم دغہ اور دیگر شہداء کی یادیں محض ایک حادثہ نہیں بلکہ اس جاری جنگ کی تباہ کاریوں کی ایک علامت ہیں۔ تقریب کے شرکاء نے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائیں کیں اور ان کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اسرائیلی حملوں کے تسلسل نے غزہ کے صحت کے نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور ہسپتالوں پر ہونے والے حملے عالمی قوانین کے منافی ہیں۔ انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے بھی اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی عدالتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ غزہ میں ہر گزرتا دن ایک نئی آزمائش بن چکا ہے، لیکن شہداء کی یاد میں منعقدہ یہ تقریبات اس بات کا ثبوت ہیں کہ فلسطینی عوام اپنی زمین اور اپنے پیاروں کی قربانیوں کو فراموش کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ عالمی برادری کی خاموشی پر فلسطینیوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ مسلسل دنیا سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کی جائے۔