World
ایران اور امریکہ کشیدگی: قطر کا اہم بیان سامنے آ گیا
قطری وزارت خارجہ نے ایک بریفنگ کے دوران واضح کیا ہے کہ ایران پر عائد کی جانے والی امریکی پابندیاں یکطرفہ حیثیت رکھتی ہیں۔ دوحہ کا ماننا ہے کہ ان پابندیوں سے خطے کی مجموعی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
قطر کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور ایران پر عائد امریکی پابندیوں کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔ قطری حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی طرف سے نافذ کردہ معاشی اور سیاسی پابندیاں مکمل طور پر یکطرفہ ہیں جنہیں بین الاقوامی قانونی فریم ورک کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے سائے گہرے ہو رہے ہیں اور عالمی طاقتیں تہران کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے یا منقطع کرنے کے حوالے سے منقسم دکھائی دیتی ہیں۔
قطری دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق، دوحہ کا ہمیشہ سے یہ ماننا رہا ہے کہ یکطرفہ پابندیاں کسی بھی تنازعہ کا حتمی حل نہیں ہو سکتیں۔ قطر کے نزدیک ان پابندیوں سے نہ صرف ایران کی معیشت پر بوجھ بڑھ رہا ہے بلکہ اس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی اور معاشی استحکام پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ قطری حکومت نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تعطل کو ختم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع اور مذاکرات کا راستہ اپنائے، کیونکہ طاقت کا استعمال یا معاشی دباؤ دیرپا امن کے قیام میں رکاوٹ بنتا ہے۔
واضح رہے کہ قطر، امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے اور اکثر اوقات دونوں ممالک کے مابین ثالثی کا کردار بھی ادا کرتا رہا ہے۔ قطری حکام کا ماننا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر بات چیت کریں۔ امریکہ کی جانب سے تہران پر دباؤ بڑھانے کی حالیہ مہم کے باوجود، قطر کا یہ موقف علاقائی سیاست میں اس کی آزاد خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قطر کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلیجی ممالک میں بھی ایران مخالف امریکی پالیسیوں پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔
آخر میں، قطر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ خطے میں قیام امن کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ دوحہ حکام کے مطابق، جب تک بات چیت کے دروازے کھلے رہیں گے، کشیدگی میں کمی لانے کے امکانات موجود رہیں گے۔ قطری وزارت خارجہ کا یہ بیان عالمی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سرد جنگ کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خطے کے ممالک اب یکطرفہ فیصلوں کے بجائے اجتماعی اور سفارتی حل کو ترجیح دینے کے خواہاں ہیں۔