Technology
ایپل کی جانب سے نئی میک منی اور میک اسٹوڈیو سیریز متعارف: اے آئی کے لیے انقلابی فیچرز
ایپل نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے طاقتور نئے میک منی اور میک اسٹوڈیو ڈیوائسز لانچ کر دیے ہیں۔ یہ نئے ماڈلز ایم 6 اور ایم 5 پرو چپس سے لیس ہیں جو اے آئی ٹاسکس کے لیے غیر معمولی کارکردگی فراہم کریں گے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف کمپنی ایپل نے مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر اپنے کمپیوٹر ہارڈویئر میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے منگل کے روز اپنی نئی اور انتہائی طاقتور میک منی (Mac Mini) اور میک اسٹوڈیو (Mac Studio) سیریز متعارف کرائی ہے، جن کا مقصد صارفین کو مقامی سطح پر اے آئی ایجنٹس چلانے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ نئی ڈیوائسز ایپل کے سی ای او ٹم کک کے دورِ ملازمت کے آخری اہم پروڈکٹ لانچز میں سے ایک سمجھی جا رہی ہیں، جس کے بعد کمپنی کی قیادت میں بڑی تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
نئے میک منی ماڈلز میں ایپل کی جدید ترین 2-نینو میٹر ایم 6 (M6) چپ اور ایم 5 پرو (M5 Pro) چپس شامل کی گئی ہیں۔ کمپنی کے مطابق، ایم 6 چپ پچھلے ایم 4 ماڈلز کے مقابلے میں چار گنا زیادہ تیز اے آئی کارکردگی فراہم کرتی ہے، جبکہ اس کی گرافکس اور اسٹوریج کی رفتار بھی دگنی ہے۔ نئے میک منی کی ابتدائی قیمت 899 ڈالر رکھی گئی ہے، جو کہ پچھلے ماڈل سے 100 ڈالر زیادہ ہے۔ ہارڈویئر چیف جونی سروجی کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹا میک اب گھر کے عام استعمال سے لے کر پیشہ ورانہ اسٹوڈیو کے کاموں اور ہر وقت آن رہنے والے اے آئی ایجنٹس کے لیے ایک مکمل پیکج ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایپل نے اپنے میک اسٹوڈیو ڈیسک ٹاپ لائن اپ کو بھی اپ ڈیٹ کیا ہے، جس میں ایم 5 میکس (M5 Max) اور ایم 5 الٹرا (M5 Ultra) چپس متعارف کرائی گئی ہیں۔ یہ مشینیں خاص طور پر ڈویلپرز اور ان پروفیشنل صارفین کے لیے بنائی گئی ہیں جنہیں بھاری اے آئی ماڈلز اور گرافکس کے کام کرنے ہوتے ہیں۔ میک اسٹوڈیو کی قیمتیں 2,499 ڈالر سے شروع ہو کر 5,499 ڈالر تک جاتی ہیں۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ عالمی سطح پر میموری چپس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور سپلائی چین کے دباؤ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ لانچ ایپل کے لیے ایک اہم موڑ ہے کیونکہ کمپنی اب ٹم کک سے جان ٹرنس کی جانب قیادت کی منتقلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپل نے اپنے ہارڈویئر کو اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ وہ ڈیٹا سینٹرز پر انحصار کیے بغیر مقامی طور پر اے آئی ماڈلز چلانے کے قابل ہو سکیں۔ یہ حکمت عملی نہ صرف صارفین کو پرائیویسی فراہم کرتی ہے بلکہ ایپل کو اس بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بھی نمایاں مقام دلاتی ہے۔