Technology
چیٹ جی پی ٹی اور ایپل آئی میسج: پرائیویسی کے نئے خدشات
ایپل نے اپنے کمپیوٹرز میں چیٹ جی پی ٹی کو ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد اے آئی اب صارفین کے آئی میسجز پڑھنے اور لکھنے کے قابل ہو جائے گا۔ اس نئی پیش رفت نے صارفین کی پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات کو جنم دیا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت کے دوران ایپل اور اوپن اے آئی نے اپنے اشتراک کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ حال ہی میں متعارف کرائے گئے ایک نئے فیچر کے تحت چیٹ جی پی ٹی کو میک کمپیوٹرز کے آئی میسجز (iMessage) کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اس سہولت کی مدد سے اب چیٹ جی پی ٹی نہ صرف صارفین کے موصول ہونے والے پیغامات کو پڑھ سکے گا بلکہ ان کا جواب لکھنے اور انہیں خودکار طریقے سے بھیجنے کی صلاحیت بھی رکھے گا۔ یہ فیچر خاص طور پر ان صارفین کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو اپنی روزمرہ کی ڈیجیٹل سرگرمیوں میں اے آئی کی مدد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کے اعلان کے ساتھ ہی دنیا بھر میں صارفین اور پرائیویسی کے ماہرین کی جانب سے سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ کیا ایک تھرڈ پارٹی اے آئی ماڈل کو نجی پیغامات تک رسائی دینا صارفین کی ذاتی سیکیورٹی کے لیے خطرہ تو نہیں؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ پیغامات کا ڈیٹا جو اے آئی پروسیس کرے گا، اس کی حساسیت بہت زیادہ ہے اور کسی بھی قسم کی تکنیکی خرابی یا ڈیٹا کے غلط استعمال کی صورت میں صارف کی پرائیویسی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ ایپل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں اور اس فیچر میں سیکیورٹی کے سخت پروٹوکولز لاگو کیے گئے ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اے آئی کو صرف صارف کی اجازت کے بعد ہی مخصوص پیغامات تک رسائی حاصل ہوگی۔ تاہم نقادوں کا کہنا ہے کہ اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے ڈیٹا کا استعمال ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے اور صارفین کو اس بات کا یقین دلانا مشکل ہوگا کہ ان کی نجی بات چیت کو اے آئی ماڈل کی بہتری کے لیے ذخیرہ نہیں کیا جائے گا۔ اس اقدام کے بعد اب ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا سہولت کے حصول کے لیے پرائیویسی پر سمجھوتہ کرنا درست ہے؟ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ صارفین اس نئی سہولت کو کس حد تک قبول کرتے ہیں اور ایپل اپنے صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے مزید کیا اقدامات اٹھاتا ہے۔