Technology
اے آئی کی مدد سے بننے والی خوفناک تصاویر نے برطانیہ اور آئرلینڈ میں ہلچل مچا دی
برطانیہ اور آئرلینڈ میں اے آئی سے تیار کردہ ایک خوفناک تصویر نے عوام میں شدید تشویش اور خوف کی لہر پیدا کر دی ہے۔ پولیس نے اس وائرل ہونے والی جعل سازی کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حقائق کا تعین کیا جا سکے۔
انٹرنیٹ کی تاریخ میں وائرل ہونے والے جھوٹ اور افواہیں ہمیشہ سے موجود رہی ہیں، لیکن اب مصنوعی ذہانت (AI) نے ان افواہوں کو پھیلانا اور مزید حقیقت پسندانہ بنانا پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ حال ہی میں برطانیہ اور آئرلینڈ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے عوام میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جس کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک 'شیطانی' کیٹ ان دی ہیٹ کی تصاویر ہیں۔ یہ تصاویر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئیں، جس کے بعد پولیس کو باقاعدہ تحقیقات شروع کرنی پڑیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر بظاہر کسی شر پسند عناصر یا انٹرنیٹ پر ٹرولنگ کرنے والے افراد کی طرف سے تیار کی گئی ہیں، جنہوں نے مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے ایک مشہور بچوں کے کردار 'کیٹ ان دی ہیٹ' کو انتہائی ڈراؤنی اور شیطانی شکل دے دی۔ جب یہ تصاویر وائرل ہوئیں تو عام لوگوں کو یہ سمجھنا مشکل ہو گیا کہ آیا یہ حقیقت ہیں یا کوئی ڈیجیٹل دھوکا۔ اس کے نتیجے میں مقامی لوگوں میں شدید بے چینی دیکھی گئی، اور کئی علاقوں میں افواہوں کا بازار گرم ہو گیا کہ یہ کوئی حقیقی خطرہ ہو سکتا ہے۔
برطانوی حکام کے مطابق، ٹیکنالوجی کا اس طرح غلط استعمال معاشرتی امن کے لیے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر دیکھی جانے والی ہر وائرل چیز پر آنکھ بند کر کے یقین نہ کریں اور کسی بھی تشویشناک تصویر یا خبر کو تصدیق کیے بغیر شیئر کرنے سے گریز کریں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ڈیجیٹل سیکیورٹی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے اخلاقی استعمال پر بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ اے آئی کے غلط استعمال سے عوامی سطح پر افراتفری پھیلانا اب کسی کے لیے بھی ممکن ہو چکا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت سے پیدا کردہ ایسے جعلی واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اور حکومتی ادارے سخت نگرانی کے نظام وضع کریں۔ فی الحال، پولیس ان ذرائع کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے جہاں سے یہ تصاویر سب سے پہلے جاری کی گئی تھیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ایسی عجیب و غریب تصاویر کو رپورٹ کریں تاکہ مزید خوف و ہراس سے بچا جا سکے۔