LIVE
Loading Breaking News...

گیتا انجلی راؤ: کم عمر ایجاد کار کا اسٹیفن ہاکنگ اعزاز جیتنے تک کا سفر

News Image
گیتا انجلی راؤ نے محض دس سال کی عمر میں پانی میں لیڈ کا پتہ لگانے والی ٹیکنالوجی ایجاد کر کے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔ اب انیس سال کی عمر میں انہوں نے اسٹیفن ہاکنگ اعزاز جیت کر تاریخ رقم کر دی ہے۔
گیتا انجلی راؤ کا نام آج دنیا بھر کے نوجوان سائنسدانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا یہ سفر محض دس سال کی عمر میں شروع ہوا جب انہوں نے 'ٹیتھس' (Tethys) نامی ایک ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کی جس کا مقصد پینے کے پانی میں زہریلے لیڈ یعنی سیسے کی موجودگی کا پتہ لگانا تھا۔ یہ ایجاد نہ صرف ایک تعلیمی مقابلے میں نمایاں ثابت ہوئی بلکہ اس نے ماحولیاتی تحفظ اور صحت عامہ کے شعبے میں ماہرین کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرائی۔ گیتا کی یہ کامیابی محض ایک اتفاق نہیں تھی بلکہ ان کے اندر چھپی سائنسی تحقیق اور تجسس کا عملی مظہر تھی۔ اس ایجاد کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور مختلف سماجی مسائل کو ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کرنے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ گیتا انجلی راؤ کی قابلیت اور لگن انہیں دنیا کے معروف ترین تعلیمی ادارے 'میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی' (MIT) تک لے گئی۔ ایم آئی ٹی میں تعلیم حاصل کرنا ان کی سائنسی مہارتوں کو نکھارنے کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ تعلیمی میدان میں ان کی مسلسل جدوجہد اور اختراعی سوچ نے انہیں بین الاقوامی سطح پر ایک پہچان دی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر ارادہ پختہ ہو تو عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی اور ایک بچہ بھی اپنی ذہانت سے دنیا کو درپیش مسائل کا حل نکال سکتا ہے۔ حال ہی میں 19 سال کی عمر میں گیتا انجلی راؤ نے تاریخ رقم کرتے ہوئے باوقار 'اسٹیفن ہاکنگ اعزاز' (Stephen Hawking Honour) جیت لیا ہے۔ یہ اعزاز سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے، اور اتنی کم عمری میں اسے حاصل کرنا ان کی بے پناہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ جیسے عظیم سائنسدان کے نام سے منسوب ایوارڈ کا حصول نہ صرف گیتا کی کامیابی ہے بلکہ ان تمام نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ہے جو تحقیق اور ایجاد کے میدان میں اپنا نام بنانا چاہتے ہیں۔ گیتا کا سفر آج بھی جاری ہے اور وہ اپنے تجربات کے ذریعے دنیا بھر کے طلبا کی رہنمائی کر رہی ہیں۔ وہ اپنی تقریروں اور ورکشاپس کے ذریعے نوجوانوں کو ترغیب دیتی ہیں کہ وہ اپنے اردگرد موجود مسائل کو دیکھیں اور انہیں ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ گیتا انجلی راؤ کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کے دور میں تعلیم اور ٹیکنالوجی کا درست امتزاج ایک بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔