Business
ڈیلٹا ایئر لائنز کی جانب سے اے آئی کے ذریعے ٹکٹ کی قیمتوں میں تبدیلی
ڈیلٹا ایئر لائنز کے سی ای او ایڈ باسٹین نے اعلان کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال ایئر لائن کے منافع کو 50 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔ ایئر لائن نے اس وقت اپنے 3 فیصد ٹکٹوں پر اے آئی کے ذریعے طے کردہ کرایوں کا تجربہ شروع کر دیا ہے۔
امریکی ایئر لائن انڈسٹری کی معروف کمپنی ڈیلٹا ایئر لائنز نے حال ہی میں اپنے کاروباری ماڈل میں ایک بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کا مرکزی محور مصنوعی ذہانت (AI) ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایڈ باسٹین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف ایئر لائن کے آپریشنل کاموں کو بہتر بنائے گی بلکہ یہ مستقبل میں مسافروں کے کرایوں کے تعین کے طریقہ کار کو بھی مکمل طور پر تبدیل کر دے گی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اے آئی کے مؤثر استعمال سے کمپنی کے مجموعی منافع میں 50 فیصد تک کا نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
اس نئے منصوبے کے تحت ڈیلٹا ایئر لائنز نے اپنے ٹکٹوں کے ایک چھوٹے حصے، یعنی 3 فیصد ٹکٹوں پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے طے کردہ کرایوں کا تجربہ شروع کر دیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ڈیٹا کے تجزیے، طلب و رسد کے رجحانات اور مسافروں کے رویوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹکٹوں کی قیمتوں کو خودکار طریقے سے ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایئر لائن کا ماننا ہے کہ اس سے نہ صرف آمدنی میں بہتری آئے گی بلکہ آپریشنل کارکردگی بھی بڑھے گی، جس سے ایئر لائن کو حریف کمپنیوں کے مقابلے میں سبقت حاصل ہوگی۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام ایئر لائن انڈسٹری میں ایک نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو مستقبل قریب میں تمام ایئر لائنز اپنے روایتی کرایہ بندی کے نظام کو ترک کر کے مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹمز کو اپنا لیں گی۔ یہ نظام نہ صرف ایئر لائنز کے لیے منافع بخش ہوگا بلکہ مسافروں کے لیے بھی زیادہ متحرک اور کسٹمائزڈ کرایہ بندی کے مواقع فراہم کرے گا، جو وقت اور طلب کے حساب سے تبدیل ہوتے رہیں گے۔
تاہم، اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر کچھ حلقوں کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ مسافروں کا ایک بڑا طبقہ اس خدشے کا شکار ہے کہ کیا خودکار نظام کے تحت ٹکٹ مہنگے تو نہیں ہو جائیں گے؟ ڈیلٹا ایئر لائنز کا موقف ہے کہ اے آئی کا بنیادی مقصد آپریشنز کو بہتر بنانا اور مسافروں کو زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ مصنوعی ذہانت کا یہ تجربہ ایئر لائن کی مالی کارکردگی پر کس قدر مثبت اثر ڈالتا ہے اور مسافر اس نئی تبدیلی کو کس حد تک قبول کرتے ہیں۔