LIVE
Loading Breaking News...

ذہنی صحت کے لیے برائٹنا اور اوپن لوپ ہیلتھ کا جدید پلیٹ فارم

News Image
برائٹنا اور اوپن لوپ ہیلتھ نے ایک اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ملازمین کو اے آئی کی مدد سے ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ یہ پروگرام روزانہ کی بنیاد پر سپورٹ اور ملک گیر سطح پر لائسنس یافتہ تھراپی تک رسائی کو ممکن بنائے گا۔
سیڈر ریپڈز اور ڈیس موئنز، آئیووا سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، ٹیلی ہیلتھ اور کلینیکل خدمات کے شعبے میں معروف ادارہ 'اوپن لوپ' اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی ذہنی صحت کا پلیٹ فارم 'برائٹنا' نے ایک اہم اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ اس اشتراک کا بنیادی مقصد آجروں کے گروپوں اور ملازمین کے لیے ذہنی صحت کی خدمات کو زیادہ قابل رسائی اور موثر بنانا ہے۔ اس نئے پروگرام کے تحت ملازمین کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی مدد سے تیار کردہ روزانہ کی بنیاد پر سپورٹ فراہم کی جائے گی، جو ذہنی دباؤ اور اضطراب کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ اس پروگرام کی سب سے نمایاں خصوصیت اوپن لوپ ہیلتھ کے نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر میں لائسنس یافتہ تھراپسٹس تک فوری رسائی فراہم کرنا ہے۔ برائٹنا کے اے آئی الگورتھمز افراد کی ضروریات کے مطابق انہیں درست رہنمائی فراہم کریں گے، جبکہ اوپن لوپ کی کلینیکل ٹیمیں ان معاملات میں پیشہ ورانہ طبی معاونت فراہم کرنے کے لیے موجود ہوں گی۔ یہ جدید ماڈل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ملازمین کو بروقت مدد ملے، جس سے نہ صرف ان کی ذہنی صحت میں بہتری آئے گی بلکہ کام کی جگہ پر ان کی کارکردگی اور اطمینان میں بھی اضافہ ہوگا۔ کمپنی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں ذہنی دباؤ ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، اس لیے ٹیکنالوجی کا درست استعمال ناگزیر ہے۔ اس شراکت داری سے کارپوریٹ کلچر میں ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی بڑھے گی اور ملازمین کو تنہائی کا احساس کیے بغیر علاج کے مواقع میسر آئیں گے۔ یہ پلیٹ فارم ڈیٹا کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے مریضوں کی رازداری کے تمام بین الاقوامی معیارات پر پورا اترتا ہے، جس سے اس سروس پر اعتماد میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اس اقدام کو ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اے آئی اور ٹیلی ہیلتھ کا یہ امتزاج مستقبل میں صحت کی سہولیات کو مزید سستا اور ہر خاص و عام کی پہنچ میں لانے کا باعث بنے گا۔ توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں مزید ادارے اپنے ملازمین کے فلاحی پیکیجز میں اس سہولت کو شامل کریں گے تاکہ ایک صحت مند ورکنگ ماحول کا قیام ممکن ہو سکے۔