LIVE
Loading Breaking News...

10 روپے کا نوٹ ختم: سٹیٹ بینک آف پاکستان کا بڑا فیصلہ متوقع

News Image
سٹیٹ بینک آف پاکستان ملکی معیشت میں بہتری اور کرنسی کے انتظام کو موثر بنانے کے لیے 10 روپے کے نوٹ کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد نوٹوں کی چھپائی پر آنے والی بلند پیداواری لاگت میں کمی لانا ہے۔
پاکستان کے مرکزی بینک، سٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے کرنسی کے انتظام میں تبدیلیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت 10 روپے کے بینک نوٹ کو ختم کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی محرک 10 روپے کے نوٹ کی چھپائی پر آنے والی لاگت کا اس کی مالیت سے تجاوز کر جانا ہے۔ اسٹیٹ بینک انتظامیہ کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر کاغذی کرنسی کی تیاری کے خام مال اور پرنٹنگ کے اخراجات میں نمایاں اضافے کے بعد، چھوٹے مالیت کے نوٹوں کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا ملکی معیشت کے لیے ایک غیر منافع بخش عمل بن چکا ہے۔ حکام اب اس آپشن کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا 10 روپے کے نوٹ کی جگہ دوبارہ مکمل طور پر سکوں کا نظام رائج کیا جائے تاکہ طویل مدت تک کرنسی کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق دنیا بھر کے مرکزی بینک جب کسی نوٹ کی پیداواری لاگت اس کی فیس ویلیو سے بڑھ جائے تو اسے ختم کر کے سکہ رائج کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے مہنگائی کی شرح میں اضافے اور کاغذی نوٹوں کی عمر کم ہونے کی وجہ سے بار بار نوٹ چھاپنے پڑ رہے ہیں، جس سے قومی خزانے پر بوجھ بڑھتا ہے۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے نئی کرنسی سیریز متعارف کرانے کے منصوبے میں بھی اس تبدیلی کو شامل کرنے کا امکان ہے، جس کا حتمی مقصد کرنسی کے گردش کے نظام کو زیادہ پائیدار اور مستحکم بنانا ہے۔ اس سے قبل بھی اسٹیٹ بینک چھوٹے نوٹوں کو سکوں سے تبدیل کرنے کے تجربات کر چکا ہے، تاہم عوام میں سکوں کے استعمال کا رجحان کم ہونے کی وجہ سے ماضی میں یہ منصوبے مکمل کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ اب اسٹیٹ بینک کی جانب سے اس نئی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے کہ 10 روپے کے نوٹ کو مرحلہ وار مارکیٹ سے واپس لیا جائے گا اور اس کے بدلے سکے کی گردش کو بڑھایا جائے گا۔ اس عمل سے نہ صرف پرنٹنگ اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ جعلی کرنسی کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی کیونکہ سکوں کی نقل تیار کرنا نوٹوں کی نسبت انتہائی مشکل اور مہنگا عمل ہے۔ فی الحال اسٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالے سے حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ نئی کرنسی سیریز کے اجراء کے ساتھ ہی اس حوالے سے باقاعدہ پالیسی کا اعلان کر دیا جائے گا۔ عوام میں فی الحال اس خبر پر ملی جلی آراء پائی جاتی ہیں، جہاں ایک طرف معاشی بہتری کی توقع ہے وہیں دوسری جانب سکے کے روزمرہ استعمال میں سہولت کے حوالے سے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔