World
ایس سی او سمٹ 2026: بشکیک میں متوقع اہم فیصلوں کا جائزہ
شنگھائی تعاون تنظیم اپنی قیام کی 25 ویں سالگرہ منا رہی ہے اور بشکیک میں ہونے والی آئندہ سمٹ خطے میں تجارت، ٹیکنالوجی اور سفارتی تعلقات کے فروغ کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ رکن ممالک کے درمیان معاشی تعاون اور علاقائی استحکام اس اجلاس کا مرکزی ایجنڈا ہوں گے۔
شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اپنے قیام کے 25 برس مکمل ہونے پر ایک ایسے سنگ میل پر کھڑی ہے جہاں بشکیک میں منعقد ہونے والی آئندہ سمٹ کو خطے کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تنظیم نے گزشتہ ڈھائی دہائیوں میں یوریشین خطے میں سیکیورٹی، معیشت اور ثقافتی روابط کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ بشکیک سمٹ کا بنیادی ایجنڈا رکن ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے، جس سے خاص طور پر وسطی ایشیائی ریاستوں کے نوجوانوں کو ترقی کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔
اس اجلاس میں بھارت، روس، چین، پاکستان اور دیگر رکن ممالک کے سربراہان کی شرکت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، وزیر اعظم مودی سمیت دیگر علاقائی رہنماؤں کا یہ دورہ نہ صرف سفارتی تعلقات کو گہرا کرنے کا ذریعہ بنے گا بلکہ توانائی اور انفراسٹرکچر کے مشترکہ منصوبوں پر بھی پیش رفت متوقع ہے۔ بیلاروس جیسے نئے رکن ممالک بھی اس سمٹ سے عملی فوائد حاصل کرنے کے لیے پرامید ہیں، تاکہ معاشی تنوع اور علاقائی تجارت میں بہتری لائی جا سکے۔ بشکیک کانفرنس میں رکن ممالک کے مابین سیکیورٹی تعاون کے نئے معاہدوں اور علاقائی تنازعات کے پرامن حل کے لیے لائحہ عمل طے کرنے پر بھی زور دیا جائے گا۔
ایس سی او کے 25 سال مکمل ہونے پر یہ سمٹ محض ایک روایتی اجلاس نہیں بلکہ تنظیم کی مستقبل کی حکمت عملی کا تعین کرنے والی تقریب ہوگی۔ تنظیم کے اہداف میں اب ٹیکنالوجی کی منتقلی، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں اور مالیاتی نظاموں میں شفافیت شامل ہو گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر رکن ممالک اپنے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے معاشی انضمام پر توجہ مرکوز کریں تو شنگھائی تعاون تنظیم عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آ سکتی ہے۔ بشکیک میں طے پانے والے فیصلے نہ صرف خطے کی معاشی تقدیر بدل سکتے ہیں بلکہ رکن ممالک کے عوام کے لیے خوشحالی کا ایک نیا دور بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔