LIVE
Loading Breaking News...

روہنگیا پناہ گزینوں کا مطالبہ: میانمار واپسی کے لیے احتجاج

News Image
بنگلہ دیش میں مقیم دسیوں ہزار روہنگیا پناہ گزینوں نے میانمار میں اپنے آبائی وطن واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بڑے مظاہرے کا انعقاد کیا۔ مظاہرین نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ ان کی باعزت اور محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں قائم پناہ گزین کیمپوں میں جمع ہونے والے دسیوں ہزار روہنگیا افراد نے میانمار سے اپنے بڑے پیمانے پر انخلا کے نو سال مکمل ہونے پر ایک پرامن مگر جذباتی احتجاج کیا۔ نو سال قبل میانمار کی فوج کے کریک ڈاؤن کے بعد لاکھوں روہنگیا اپنی جانیں بچا کر بنگلہ دیش فرار ہونے پر مجبور ہوئے تھے۔ اس احتجاج میں مردوں، خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، جن کے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز تھے جن پر میانمار کے علاقے رخائن میں ان کی واپسی کا مطالبہ درج تھا۔ مظاہرین کا مرکزی مطالبہ یہ ہے کہ میانمار میں ان کی واپسی کے لیے محفوظ حالات پیدا کیے جائیں اور انہیں شہریت کے بنیادی حقوق دیے جائیں۔ احتجاج کے دوران شرکاء نے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے بھی اپیل کی کہ وہ میانمار کی حکومت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ روہنگیا برادری کو ان کا آبائی حق واپس کر سکے۔ پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں پناہ تو ملی ہے، لیکن وہ اپنے وطن میں وقار اور سلامتی کے ساتھ رہنے کے خواہشمند ہیں اور کیمپوں میں محدود زندگی گزارنا ان کا مقدر نہیں ہونا چاہیے۔ اس موقع پر رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کہا کہ نو سال گزر جانے کے باوجود واپسی کی امیدیں مدھم پڑ رہی ہیں اور دنیا کو ان کے انسانی بحران کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ روہنگیا پناہ گزینوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ میانمار میں ان کے لیے ایک محفوظ زون (Safe Zone) کے قیام میں کردار ادا کریں تاکہ وہ نسل کشی کے خوف کے بغیر اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔ مظاہرہ انتہائی منظم انداز میں منعقد کیا گیا، جس میں پناہ گزینوں کے عزم کو نمایاں طور پر دیکھا گیا کہ وہ اپنی شناخت اور وطن کو کسی صورت فراموش نہیں کریں گے۔ دریں اثناء، انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی روہنگیا پناہ گزینوں کے اس مطالبے کی حمایت کی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میانمار کے حالات کو معمول پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرے۔ روہنگیا بحران دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحرانوں میں سے ایک ہے، اور پناہ گزینوں کی یہ حالیہ ریلی دنیا کو یہ یاد دلانے کے لیے کافی ہے کہ جب تک انہیں ان کا حق نہیں ملتا، یہ کشمکش جاری رہے گی۔