Politics
افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات پر دفتر خارجہ کا ردعمل
پاکستان کی وزارت خارجہ نے افغان طالبان کے ترجمان کی جانب سے بدخشاں میں ہونے والے حالیہ تشدد میں پاکستانی مداخلت کے دعووں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ بے بنیاد الزامات افغانستان کے اپنے اندرونی چیلنجز سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔
پاکستان نے افغان طالبان کے ترجمان کی جانب سے صوبہ بدخشاں میں حالیہ تشدد اور بدامنی کے واقعات میں پاکستان کے ملوث ہونے کے دعووں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بے بنیاد اور بلا جواز الزامات لگانا حقیقت کے منافی ہے اور اس کا مقصد افغانستان کے اندرونی حالات سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔ پاکستان نے اپنے موقف میں واضح کیا ہے کہ وہ ہمسایہ ملک کے داخلی مسائل میں کسی بھی قسم کی مداخلت کا قائل نہیں ہے اور نہ ہی اس کا خطے میں بدامنی پھیلانے میں کوئی مفاد ہے۔
دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، افغانستان میں جاری تشدد اور بدامنی کے واقعات دراصل وہاں کے اپنے داخلی چیلنجز اور سیکورٹی کے مسائل کا نتیجہ ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اس نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔ بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزامات لگانا دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید دوری پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے، جس سے گریز کیا جانا چاہیے۔
پاکستان نے افغان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں اور الزام تراشی کی بجائے ان بنیادی وجوہات پر توجہ مرکوز کریں جو افغانستان کے اندر بدامنی کا باعث بن رہی ہیں۔ پاکستان نے ماضی میں بھی بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ایک مستحکم، پرامن اور خوشحال افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو باہمی احترام اور خودمختاری کی بنیاد پر استوار کرنے کا خواہاں ہے اور اسے توقع ہے کہ افغان حکومت بھی اسی جذبے کے تحت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گی۔