Technology
پلاسٹک سے بسکٹ کی تیاری: بھوک کے خاتمے کے لیے سائنسی تحقیق
سائنسدانوں نے عالمی بھوک کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پلاسٹک کے فضلے سے بسکٹ تیار کرنے کا نیا اور انوکھا تجربہ کیا ہے۔ یہ تحقیق ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے اور غذائی قلت کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک اہم پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔
دنیا بھر میں پلاسٹک کا بڑھتا ہوا کچرا ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بن چکا ہے، تاہم اب سائنسدانوں نے اس مسئلے کو عالمی بھوک کے خاتمے کے لیے ایک حل میں بدلنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایک نئی اور حیران کن سائنسی تحقیق کے مطابق، ماہرین نے پلاسٹک کے فضلے کو عمل انگیز (Catalysts) کی مدد سے توڑ کر اسے خوردنی اجزاء میں تبدیل کرنے کا طریقہ وضع کیا ہے، جس سے 'پلاسٹک بسکٹ' تیار کیے گئے ہیں۔ اس تحقیق کا مقصد یہ ہے کہ ماحولیات میں موجود پلاسٹک کو ضائع کرنے کے بجائے اسے انسانی غذائیت کی ضروریات پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل پلاسٹک کے سالمات کو ایسے چھوٹے ذرات میں تبدیل کر دیتا ہے جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتے۔
اس ٹیکنالوجی کے پیچھے کارفرما سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پلاسٹک بنیادی طور پر کاربن کے مرکبات پر مشتمل ہوتا ہے، اور اگر اس کے کیمیائی ڈھانچے کو درست طریقے سے ری-انجینئر کیا جائے تو اسے پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس کے متبادل ذرائع کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس تجرباتی عمل میں پلاسٹک کو ایک خاص لیبارٹری ماحول میں گرم کیا جاتا ہے تاکہ اس کی زہریلی ساخت ختم ہو جائے اور اسے خمیر کے ذریعے پروٹین میں بدلا جا سکے۔ اگرچہ یہ آئیڈیا بظاہر عجیب محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے پیچھے کیمسٹری اور بائیو ٹیکنالوجی کا جدید ترین استعمال موجود ہے جو آنے والے وقت میں خوراک کے عالمی بحران سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، غذائی ماہرین نے اس پیشرفت پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لیبارٹری میں پلاسٹک سے تیار کردہ خوراک کو عوامی سطح پر متعارف کروانے سے پہلے اس کے انسانی جسم پر طویل مدتی اثرات کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہے۔ تاہم، ٹیکنالوجی کے حامیوں کا خیال ہے کہ اگر یہ طریقہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ایک تیر سے دو شکار کے مترادف ہوگا؛ پہلا یہ کہ زمین سے پلاسٹک کا بوجھ کم ہوگا اور دوسرا یہ کہ ترقی پذیر ممالک میں غذائی قلت کو دور کرنے کے لیے سستا اور وافر ذریعہ میسر آئے گا۔ فی الحال یہ منصوبہ ابتدائی مراحل میں ہے لیکن سائنس کی دنیا میں اسے ایک انقلابی قدم سمجھا جا رہا ہے۔