Business
ایلون مسک کے ڈی او جی ای اور آئی آر ایس میں کٹوتیاں: کیا ٹیکس نظام خطرے میں ہے؟
آئی آر ایس کے سابق سربراہ نے ایلون مسک کے محکمہ برائے سرکاری کارکردگی کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ادارے میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں طویل مدتی نقصان کا باعث بنیں گی۔ ماہرین کے مطابق ٹیکس وصولی کے نظام پر ان فیصلوں کے اثرات آئندہ کئی برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
ٹیکس کے امور کے امریکی ادارے آئی آر ایس (IRS) کے سابق سربراہ نے ایلون مسک کے محکمہ برائے سرکاری کارکردگی (DOGE) کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حال ہی میں ایلون مسک کی نگرانی میں کام کرنے والے اس محکمہ نے آئی آر ایس کے ایک لاکھ ملازمین میں سے ایک چوتھائی سے زائد کو فارغ کر دیا ہے، جس کے بعد سے ٹیکس وصولی اور انتظامی امور کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ سابق حکام کا کہنا ہے کہ یہ کٹوتیاں اتنی تیزی اور بے دلی سے کی گئی ہیں کہ ان کا بنیادی مقصد یا ہدف سمجھنا انتہائی مشکل ہے، اور اس کا خمیازہ آنے والے سالوں میں عام ٹیکس دہندگان کو بھگتنا پڑے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق، آئی آر ایس کو حالیہ عرصے میں تقریباً 14 کروڑ 20 لاکھ انفرادی گوشوارے موصول ہوئے، جبکہ لاکھوں کی تعداد میں ٹیکس ریفنڈز جاری کیے گئے۔ ادارے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افرادی قوت میں اتنی بڑی کمی کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر کام کا بوجھ سنبھالنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ جب آپ ایک تکنیکی اور حساس ادارے کے تجربہ کار اسٹاف کو بڑی تعداد میں نکال دیتے ہیں، تو ادارے کی کارکردگی کا معیار گرنا فطری عمل ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگرچہ ڈی او جی ای کا دعویٰ اخراجات میں کمی لانا ہے، لیکن درحقیقت یہ فیصلہ ٹیکس چوری روکنے اور محصولات جمع کرنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرے گا۔
مزید برآں، انتظامیہ کی طرف سے اس عمل کو 'کارکردگی بہتر بنانے' کا نام دیا جا رہا ہے، تاہم تجزیہ کار اسے سیاسی بنیادوں پر کیا گیا فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ آئی آر ایس کے سابق اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ ٹیکس نظام کا ایک پیچیدہ ڈھانچہ ہوتا ہے جس کے لیے افرادی قوت کی مسلسل نگرانی اور تکنیکی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اس ڈھانچے کو کمزور کیا گیا تو وفاقی حکومت کو محصولات میں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کا براہِ راست اثر ملکی بجٹ پر پڑے گا۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا یہ کٹوتیاں واقعی حکومتی اخراجات کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا پھر یہ ٹیکس دہندگان کے لیے ایک نئے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی۔