World
بنجمن نیتن ہماہ کی پالیسیاں اور امریکہ میں اسرائیل کی دو طرفہ حمایت کا زوال
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن ہماہ نے تل ابیب کو امریکی ریپبلکن پارٹی کے ساتھ سختی سے جوڑ کر واشنگٹن میں طویل عرصے سے قائم دو طرفہ اتفاق رائے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس حکمت عملی نے اسرائیل کے سب سے اہم تزویراتی اتحاد کو خطرے میں ڈال دیا ہے جو اب ڈیموکریٹک حلقوں میں تنقید کی زد میں ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن ہماہ کی طویل مدتی پالیسیوں نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ماضی میں واشنگٹن میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں جماعتیں تل ابیب کی غیر مشروط حمایت کرتی تھیں اور اسرائیل کے دفاع کو امریکی خارجہ پالیسی کا لازمی حصہ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم نیتن ہماہ نے جان بوجھ کر یا نادانستہ طور پر اس تاریخی دو طرفہ اتفاق رائے کو خطرے میں ڈالا اور خود کو امریکی سیاست کے انتہائی دائیں بازو کے ساتھ منسلک کر لیا۔ اس تبدیلی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اسرائیل اب روایتی طور پر دونوں جماعتوں کی مشترکہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام نظر آتا ہے جو کہ صہیونی ریاست کے لیے ایک بڑا تزویراتی نقصان ہے۔ امریکی سیاسی منظر نامے میں یہ دراڑ اس وقت مزید گہری ہو گئی جب نیتن ہماہ نے امریکی کانگریس میں ریپبلکنز کی دعوت پر اور ڈیموکریٹک صدر کی مرضی کے خلاف تقاریر کیں۔ ان اقدامات نے نہ صرف وائٹ ہاؤس کے ساتھ تلخیاں پیدا کیں بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی اسرائیل مخالف آوازوں کو مضبوط کیا۔ پارٹی کے ترقی پسند اور اعتدال پسند اراکین اب کھل کر اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں بالخصوص غزہ میں جاری تنازع اور فلسطینیوں سے متعلق رویے پر تنقید کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نیتن ہماہ کا یہ جوا کس طرح الٹا پڑ گیا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر، امریکی عوام بالخصوص نوجوان نسل میں اسرائیل کے لیے جو ہمدردی پائی جاتی تھی، اس میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ڈیموکریٹک حامی اب اسرائیل کو ایک ناگزیر اتحادی کے طور پر دیکھنے سے گریزاں ہیں۔ خارجہ امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کے لیے دو طرفہ حمایت کا خاتمہ ایک تباہ کن قدم ہوتا ہے کیونکہ سیاسی حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن قومی مفادات مستقل رہتے ہیں۔ نیتن ہماہ نے قلیل مدتی سیاسی فوائد کے حصول کے لیے واشنگٹن کے ساتھ اس طویل مدتی اور قیمتی رشتے کو داؤ پر لگا دیا ہے، جس کے اثرات آنے والے کئی سالوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسرائیل مستقبل میں امریکی سیاسی حلقوں میں اپنی کھوئی ہوئی دو طرفہ حمایت کو دوبارہ بحال کر پائے گا یا نہیں، کیونکہ موجودہ کشیدگی کے ہوتے ہوئے یہ راستہ انتہائی کٹھن دکھائی دیتا ہے۔