Business
پال کروگمین: سستا ایندھن جدید ٹیکنالوجی کی راہ میں بڑی رکاوٹ
معروف ماہر معاشیات پال کروگمین کا کہنا ہے کہ جب تک جیواشم ایندھن سستا رہے گا، لوگ اس کا استعمال جاری رکھیں گے جس سے نئی ٹیکنالوجی کی طرف منتقلی سست ہو جائے گی۔ ان کا یہ تجزیہ عالمی معیشت میں توانائی کی تبدیلی اور جدت طرازی کی رکاوٹوں کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات پال کروگمین نے توانائی کی منتقلی اور جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم معاشی حقیقت کی نشاندہی کی ہے۔ کروگمین کا کہنا ہے کہ جب تک دنیا بھر میں جیواشم ایندھن (فوسل فیولز) سستے رہیں گے، تب تک لوگ اور صنعتیں ان کا استعمال جاری رکھیں گی، جس کے براہِ راست اثرات نئی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی ترقی پر پڑیں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ سستے ایندھن کی دستیابی دراصل جدت طرازی کی رفتار کو کم کر دیتی ہے کیونکہ جب توانائی کا روایتی ذریعہ ارزاں ہو، تو متبادل اور صاف ستھری توانائی میں سرمایہ کاری کرنے کا رجحان کم ہو جاتا ہے۔
کروگمین کا یہ تجزیہ توانائی کے شعبے میں جاری عالمی بحث کا ایک اہم رخ پیش کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، توانائی کی منتقلی صرف تکنیکی مسائل کا نام نہیں بلکہ یہ معاشی عوامل کے گرد گھومتی ہے۔ جب کمپنیاں اور صارفین کو توانائی کے پرانے ذرائع کم قیمت پر دستیاب ہوتے ہیں، تو وہ شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کی جانب منتقل ہونے سے ہچکچاتے ہیں۔ یہ معاشی توازن نئی ٹیکنالوجیز کے لیے درکار بھاری سرمایہ کاری کو غیر منافع بخش بنا دیتا ہے، جس کی وجہ سے پائیدار مستقبل کی طرف پیش رفت سست پڑ جاتی ہے۔
مزید برآں، یہ صورتحال پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ کروگمین کا نکتہ نظر یہ بتاتا ہے کہ صرف تکنیکی ایجادات ہی کافی نہیں ہیں، بلکہ معاشی محرکات اور حکومتی پالیسیوں کا بھی درست ہونا ضروری ہے تاکہ صاف توانائی کو سستے ایندھن کے مقابلے میں مسابقتی بنایا جا سکے۔ اگر حکومتیں جیواشم ایندھن پر انحصار کم کرنا چاہتی ہیں، تو انہیں ایسے معاشی ماڈلز کی ضرورت ہے جو قابل تجدید توانائی کو عام آدمی اور صنعتوں کے لیے سستا اور پرکشش بنا سکیں۔
آخر میں، پال کروگمین کا یہ بیان ہمیں یہ سیکھ دیتا ہے کہ تبدیلی صرف ارادوں سے نہیں بلکہ معاشی حقیقتوں کو بدلنے سے آتی ہے۔ جدت طرازی تب ہی پھل پھول سکتی ہے جب توانائی کے پرانے اور آلودگی پھیلانے والے ذرائع اپنی معاشی افادیت کھو دیں گے۔ عالمی سطح پر توانائی کی تبدیلی کا سفر صرف اسی صورت میں تیز ہو سکتا ہے جب صاف توانائی کے حل تکنیکی لحاظ سے بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ قیمت کے اعتبار سے بھی جیواشم ایندھن کا متبادل ثابت ہو سکیں۔