World
مقبوضہ مغربی کنارہ: اسرائیلی ناکہ بندی سے سنجل گاؤں کا محاصرہ
مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع گاؤں سنجل کو اسرائیلی سڑکوں کی بندش اور ناکہ بندی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی رہائشیوں نے روزمرہ کی زندگی اور نقل و حرکت پر عائد ان پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی گاؤں سنجل کو تمام اہم داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر کے عملی طور پر دنیا سے الگ تھلگ کر دیا ہے۔ الجزیرہ کی ایک خصوصی ٹیم نے اس محصور گاؤں کا دورہ کیا جہاں زمینی حقائق نے قابض انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ ظالمانہ پابندیوں کی سنگین تصویر پیش کی۔ سڑکوں کی اس طویل بندش اور رکاوٹوں کی وجہ سے سنجل کے رہائشیوں کا معمول کا جینا محال ہو چکا ہے اور وہ بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ علاقے کے باسیوں اور ذرائع کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے گاؤں کے گرد کنکریٹ کے بلاکس، مٹی کے تودے اور آہنی پھاٹک لگا رکھے ہیں جس کی وجہ سے گاڑیوں اور پیدदल چلنے والوں کی نقل و حرکت بھی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔ اس ناکہ بندی کے اثرات نہ صرف معاشی بلکہ سماجی زندگی پر بھی انتہائی منفی مرتب ہو رہے ہیں۔ کسان اپنی زرعی زمینوں تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے ہیں اور فصلوں کی بروقت کٹائی یا ترسیل رک گئی ہے، جس سے مقامی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کے علاوہ، تعلیمی اداروں کا نظام بھی درہم برہم ہو چکا ہے کیونکہ اساتذہ اور طلباء کے لیے اسکولوں اور کالجوں تک پہنچنا انتہائی خطرناک اور دشوار ہو گیا ہے۔ طبی ہنگامی صورتحال میں صورتحال مزید ابتر ہو جاتی ہے جب مریضوں کو قریبی اسپتالوں تک لے جانے کے لیے ایمبولینسز کو شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اجتماعی سزا قرار دیا ہے۔ مقامی آبادی کا عزم ہے کہ وہ ہر قسم کے جبر اور پابندیوں کے باوجود اپنے آبائی علاقوں میں ڈٹے رہیں گے، مگر عالمی برادری سے فوری مداخلت کا پرزور مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے تاکہ اس ظالمانہ ناکہ بندی کو ختم کرایا جا سکے اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے جو کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔