Pakistan
طارق فاروق آزاد کشمیر اسمبلی کے سپیکر منتخب، سیاسی صورتحال پر گہری نظر
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فاروق کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا نیا سپیکر منتخب کر لیا گیا ہے۔ اس اہم انتخاب کے بعد اسمبلی کے دیگر عہدیداروں نے بھی اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما طارق فاروق کو بھاری اکثریت سے اسمبلی کا نیا سپیکر منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ انتخاب ایک ایسے وقت میں عمل میں آیا ہے جب خطے کی سیاسی صورتحال میں کئی اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ انتخاب کے عمل کے بعد طارق فاروق نے اپنی ذمہ داریوں کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے اور ایوان کی کارروائی کو آئین کے مطابق چلانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے بھی اپنے عہدے کا حلف اٹھایا جس سے ایوان کی قیادت کے معاملات مستحکم ہو گئے ہیں۔
اس انتخابی عمل کے ساتھ ہی آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے اگلے مراحل بھی تیز ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شاہ غلام قادر کو آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے، جس سے مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن ایوان میں مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ حالیہ انتخابات اور ضمنی نشستوں کے نتائج کے بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان طاقت کا توازن تبدیل ہوا ہے، جہاں مسلم لیگ (ن) نے چھ جبکہ پیپلز پارٹی نے دو مخصوص نشستیں حاصل کر کے اپنی موجودگی کو یقینی بنایا ہے۔ اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی کے لیے سخت مقابلوں کا سامنا رہا، یہاں تک کہ ایک نشست کا فیصلہ ٹاس کے ذریعے کرنا پڑا، جس نے سیاسی حلقوں میں کافی بحث کو جنم دیا۔
نومنتخب سپیکر طارق فاروق نے اپنے پہلے خطاب میں تمام ارکان اسمبلی پر زور دیا کہ وہ کشمیر کاز کے لیے متحد ہو کر کام کریں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی اسمبلی کا وقار بلند کرنا ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ ایوان میں موجود اپوزیشن جماعتوں نے بھی نئے سپیکر کو ان کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے میں تعاون کا یقین دلایا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس نئی قیادت کے ساتھ آزاد کشمیر کی اسمبلی عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے مزید فعال کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔
آزاد کشمیر کے سیاسی افق پر یہ تبدیلی خطے میں حکمرانی کے استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں وزیراعظم کے انتخاب اور کابینہ کی تشکیل کے عمل سے نئی سیاسی سمت کا تعین ہوگا۔ عوام کی نظریں اب اسمبلی کے آئندہ اجلاسوں پر مرکوز ہیں جہاں ترقیاتی منصوبوں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق معاملات پر اہم قانون سازی متوقع ہے۔ انتظامی اور سیاسی محاذ پر بہتری لانے کے لیے ایوان کے اندر اتفاق رائے پیدا کرنا نئی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا جسے طارق فاروق کی قیادت میں حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔