LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی نئی ایران پالیسی: خلیجی ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف اختیار کی جانے والی نئی پالیسی نے خطے میں کشیدگی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ خلیجی ریاستیں اب اس مخمصے کا شکار ہیں کہ آیا سخت پابندیاں بہتر ہیں یا پھر ممکنہ فوجی تصادم کا خطرہ۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے اختیار کی جانے والی سخت گیر پالیسی نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں بدلتی ہوئی حکمت عملی اور تہران پر بڑھتا ہوا دباؤ خلیجی ریاستوں کے لیے ایک بڑے امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔ خلیجی ممالک ایک عرصے سے اس کوشش میں ہیں کہ خطے میں استحکام برقرار رہے تاکہ معاشی ترقی کا سفر جاری رہ سکے، تاہم امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کے اطلاق کے اعلانات نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ سفارتی مبصرین کا ماننا ہے کہ خلیجی ممالک اس وقت ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں وہ ایران کی جارحیت کو محدود کرنے کے خواہاں تو ہیں لیکن ساتھ ہی وہ کسی بھی قسم کی کھلی جنگ یا فوجی تصادم سے بچنے کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کو تنہا کرنے کی کوششیں جہاں خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتی ہیں، وہیں یہ خدشات بھی اپنی جگہ موجود ہیں کہ ایران اس کا جواب میزائل حملوں یا پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے دے سکتا ہے، جس کا براہ راست نشانہ خلیجی ممالک کی تنصیبات بن سکتی ہیں۔ ماضی میں ہونے والے واقعات گواہ ہیں کہ جب بھی امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا، خلیج کے آبی گزرگاہوں اور تیل کی تنصیبات پر دباؤ بڑھ گیا، جس سے عالمی منڈیوں میں بھی اضطراب پیدا ہوا۔ اب جبکہ ٹرمپ کی واپسی کے بعد امریکی خارجہ پالیسی میں پھر سے جارحیت کا عنصر نمایاں ہو رہا ہے، خلیجی دارالحکومتوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ عرب ممالک اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر ایران پر زیادہ دباؤ ڈالا گیا تو تہران کے پاس اپنے دفاع یا ردعمل کے طور پر محدود آپشنز بچیں گے، جو خطے کو کسی بڑے بحران کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔ خلیجی قیادت اب اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہے تاکہ تہران کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کو ایک حد تک رکھا جا سکے اور امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔ مجموعی طور پر، مشرق وسطیٰ کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ آیا ایران پر معاشی دباؤ کام آئے گا یا پھر یہ حکمت عملی خطے کو ایک ایسی جنگ کی طرف لے جائے گی جس کا متحمل کوئی بھی ملک نہیں ہو سکتا۔