World
ایران پر امریکی معاشی پابندیاں: ٹرمپ کی نئی حکمت عملی اور اثرات
ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے تاریخ کی سخت ترین پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھا کر اسے اپنے جوہری اور علاقائی عزائم پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے ایران کے خلاف ایک نئی 'معاشی جارحیت' کا آغاز کرتے ہوئے تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام تہران کی پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے حکام کے مطابق، ان پابندیوں کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے جس میں ایران کے بینکنگ سیکٹر، تیل کی برآمدات اور اہم صنعتی شعبوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ یہ دباؤ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایران اپنی علاقائی جارحیت اور جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی شرائط کو تسلیم نہیں کر لیتا۔
اس نئی حکمت عملی کو 'معاشی ڈی-ڈے' کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد ایران کے مالیاتی نظام کو عالمی منڈیوں سے مکمل طور پر کاٹ دینا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایران کے اندرونی معاشی بحران میں مزید شدت آئے گی، کیونکہ پہلے ہی مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی نے ایرانی عوام کی زندگیوں کو مشکل بنا دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندیاں صرف ایرانی حکومت تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ان ممالک یا کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جو تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھیں گے۔
اس صورتحال میں چین کو بھی ایک واضح اور سخت انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیجنگ نے ایران سے تیل کی درآمد جاری رکھی تو اسے بھی سخت امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ وارننگ عالمی سطح پر امریکہ اور چین کے درمیان پہلے سے کشیدہ تجارتی اور سفارتی تعلقات میں مزید تناؤ کا باعث بن سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا یہ قدم مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی پر بھی گہرے ہوں گے۔
ادھر، ایران نے ان اقدامات کو 'معاشی جنگ' قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ امریکہ بین الاقوامی قوانین اور جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ایران کی قیادت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے متبادل راستے تلاش کریں گے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ سفارتی حل کی تمام کوششیں فی الحال تعطل کا شکار نظر آتی ہیں۔