LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی کوریا کی معاشی ترقی کا راز: 1953 سے آج تک کا سفر

News Image
کورین جنگ کے بعد تباہ حال جنوبی کوریا نے تعلیم اور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر ستر برسوں میں غیر معمولی معاشی ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ آج یہ ملک دنیا بھر میں سب سے زیادہ متوقع عمر اور بہترین تعلیمی معیار کے لیے جانا جاتا ہے۔
سال 1953 میں جب کورین جنگ کا اختتام ہوا تو جنوبی کوریا مکمل طور پر تباہ حال تھا اور ملک کی 60 سے 70 فیصد آبادی شدید غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور تھی۔ اس وقت کے حالات اس قدر سنگین تھے کہ کسی بھی معاشی ماہر کے لیے یہ تصور کرنا ناممکن تھا کہ یہ ملک مستقبل میں دنیا کی صف اول کی معیشتوں میں شمار ہوگا۔ تاہم گزشتہ 71 برسوں کے دوران جنوبی کوریا نے ایک ایسا حیران کن سفر طے کیا ہے جسے آج ماہرین معاشیات ایک 'معجزہ' قرار دیتے ہیں۔ اس تبدیلی کی بنیادی وجہ حکومتی سطح پر تعلیم اور ٹیکنالوجی پر دی جانے والی خصوصی توجہ تھی۔ جنوبی کوریا کی اس غیر معمولی ترقی کا ایک اہم ستون تعلیمی نظام میں اصلاحات اور وسیع تر رسائی ہے۔ ملک نے اپنے انسانی وسائل کو سب سے بڑی طاقت سمجھا اور تعلیمی اداروں کا ایک ایسا نیٹ ورک قائم کیا جس نے نوجوان نسل کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کیا۔ آج جنوبی کوریا کے تعلیمی معیار کو دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے اور یہ ملک اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت کے حوالے سے عالمی درجہ بندی میں سر فہرست ہے۔ تعلیم کے اس فروغ نے نہ صرف ملکی صنعتوں کو جدید خطوط پر استوار کیا بلکہ تکنیکی جدت طرازی میں بھی کوریا کو دنیا کا مرکز بنا دیا۔ ان تمام تر کاوشوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنوبی کوریا میں معیارِ زندگی میں زبردست بہتری آئی۔ جدید صحت کی سہولیات اور بہتر طرز زندگی کے باعث اب وہاں کے شہریوں کی متوقع عمر 83.7 سال تک پہنچ چکی ہے، جو کہ دنیا کے اعلیٰ ترین اعداد و شمار میں سے ایک ہے۔ 1953 کی غربت زدہ قوم آج ایک مضبوط جی 20 معیشت اور ٹیکنالوجی کی بڑی طاقت کے طور پر ابھری ہے۔ جنوبی کوریا کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر صحیح سمت میں پالیسیاں اپنائی جائیں اور عوام کے علم پر سرمایہ کاری کی جائے تو کوئی بھی قوم تباہی کی راکھ سے اٹھ کر کامیابی کی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔