Technology
برطانیہ کے پاور پلانٹ پر سائبر حملہ، ایران سے منسلک ہیکرز پر شبہ
برطانیہ کے ایک چھوٹے پاور جنریٹر کو ہیکرز کی جانب سے چار روز تک آف لائن رکھنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے ایران سے منسلک گروپ ملوث ہو سکتے ہیں۔
برطانیہ میں حال ہی میں پیش آنے والے ایک تشویشناک سائبر حملے نے عالمی سطح پر سیکیورٹی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ایران سے منسلک ہیکرز نے برطانیہ کے ایک چھوٹے پاور جنریٹر کو گزشتہ ماہ چار دنوں کے لیے مکمل طور پر آف لائن کر دیا تھا۔ یہ واقعہ اس بات کی تازہ ترین علامت ہے کہ تہران سے وابستہ سائبر ایکٹیویٹی اب محض حساس تنصیبات کی جانچ پڑتال تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ فعال حملوں کی طرف بڑھ رہی ہے جس سے اہم بنیادی ڈھانچے کو خطرات لاحق ہیں۔
ماہرینِ سائبر سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ اس حملے کے طریقہ کار سے واضح ہوتا ہے کہ حملہ آوروں نے جدید ہیکنگ ٹولز کا استعمال کیا تاکہ سسٹم میں نقب لگائی جا سکے۔ یہ واقعہ صرف برطانیہ تک محدود نہیں ہے بلکہ اسی طرح کے شواہد امریکہ میں بھی دیکھے گئے ہیں جہاں مبینہ طور پر منی سوٹا کے آبی ذخائر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اگرچہ اس واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، لیکن حکام نے متنبہ کیا ہے کہ دشمن ممالک کی جانب سے اہم شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک نئی اور خطرناک جنگی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
تکنیکی ماہرین کے مطابق، پاور گرڈز، پانی کی فراہمی کے نظام اور مواصلاتی نیٹ ورک پر سائبر حملے کسی بھی ملک کی معیشت اور سماجی زندگی کو مفلوج کرنے کے لیے کافی ہیں۔ برطانیہ کی جانب سے اس واقعے کے بعد اپنی ڈیجیٹل سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے منظم حملے کسی بھی ریاستی سرپرستی میں ہونے والے سائبر آپریشنز کا حصہ ہو سکتے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔
مستقبل کے تناظر میں، یہ واقعات سائبر سیکیورٹی کی صنعت کے لیے ایک الارم ہیں۔ دنیا بھر میں حکومتیں اب اپنی اہم انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانے کے لیے خطیر رقم خرچ کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ 'سائبر بلیک آؤٹ' سے بچا جا سکے۔ اگرچہ ایران نے براہِ راست ان الزامات کی تردید کی ہے، لیکن بین الاقوامی انٹیلیجنس ایجنسیاں ان حملوں کے ڈیجیٹل فٹ پرنٹس کا بغور جائزہ لے رہی ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور آئندہ ایسی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔