Business
مائیکل بری کا انتباہ: علی بابا کے شیئرز فروخت کرنے کے فیصلے پر سرمایہ کاروں کی تشویش
مشہور سرمایہ کار مائیکل بری نے چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کی جانب سے نئی سرمایہ کاری کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بری کے مطابق کمپنی کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے لیے اربوں ڈالر کے شیئرز بیچنے کا اقدام اسٹاک مارکیٹ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اپنی پیش گوئیوں کے لیے مشہور سرمایہ کار مائیکل بری نے چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا (NYSE:BABA) کے حوالے سے اپنے منفی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ مائیکل بری، جو اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی اور درست اندازوں کے لیے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں، نے علی بابا کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے 10.2 ارب ڈالر کے شیئرز فروخت کرنے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کمپنی کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) ٹیکنالوجی میں اپنے عزائم کو پورا کرنے کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے، تاہم مارکیٹ کے ماہرین اسے کمپنی کے مالیاتی استحکام کے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
مائیکل بری کی جانب سے علی بابا کے اسٹاک پر اس طرح کا سخت موقف اختیار کرنا سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اخراجات اور عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان سخت مسابقت کے باعث علی بابا کا یہ فیصلہ کمپنی کی مارکیٹ ویلیو پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ مائیکل بری، جنہوں نے ماضی میں بڑی مالیاتی تباہیوں کی پیش گوئی کی تھی، کا ماننا ہے کہ کمپنی کا یہ اقدام شاید وہ نتائج نہ دے سکے جن کی توقع علی بابا کی انتظامیہ کر رہی ہے۔
دوسری جانب علی بابا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے مستقبل میں سرمایہ کاری کرنا اپنی بقا اور ترقی کے لیے انتہائی ضروری سمجھتی ہے۔ کمپنی کے مطابق، AI کی ٹیکنالوجی آنے والے برسوں میں دنیا بھر کے کاروبار کا نقشہ بدل دے گی، اور اسی لیے وہ اس شعبے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، مائیکل بری جیسے بڑے سرمایہ کاروں کی تنقید کے بعد اب سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے کہ آیا یہ بڑی سرمایہ کاری کمپنی کے شیئر ہولڈرز کے لیے منافع بخش ثابت ہوگی یا پھر یہ کمپنی کو طویل مدتی مالی خسارے کی طرف لے جائے گی۔
مستقبل قریب میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا علی بابا اپنے اس بڑے منصوبے کے ذریعے مارکیٹ کے خدشات کو دور کر پاتی ہے یا نہیں۔ فی الحال، اسٹاک مارکیٹ میں علی بابا کے شیئرز کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور سرمایہ کار محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ مائیکل بری جیسے سرمایہ کاروں کے اقدامات پر نظر رکھنے والے افراد کو مزید پیش رفت کا انتظار کرنا چاہیے، کیونکہ ٹیکنالوجی سیکٹر میں اس طرح کے بڑے فیصلوں کے نتائج کا اثر طویل مدت تک رہتا ہے۔