LIVE
Loading Breaking News...

سٹیو جابز کی ایپل سے علیحدگی کے 15 سال مکمل

News Image
آج سے پندرہ برس قبل 24 اگست 2011 کو سٹیو جابز نے ایپل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔ ان کے اس فیصلے نے دنیا بھر کی ٹیکنالوجی انڈسٹری میں ایک نئے اور انقلابی دور کی بنیاد رکھی۔
آج سے پندرہ سال قبل، 24 اگست 2011 کا دن ٹیکنالوجی کی دنیا کے لیے ایک انتہائی اہم اور جذباتی لمحہ تھا، جب ایپل کے شریک بانی اور وژنری لیڈر سٹیو جابز نے باضابطہ طور پر چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جابز کا یہ فیصلہ نہ صرف ایپل کمپنی کے لیے بلکہ پوری عالمی ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے ایک بڑے تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا گیا۔ اپنی خرابی صحت کے باعث انہوں نے یہ قدم اٹھایا تھا، جس سے ایک ایسے عہد کا اختتام ہوا جس نے جدید اسمارٹ فونز، ٹیبلیٹس اور ڈیجیٹل میوزک کی دنیا کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔ سٹیو جابز کی قیادت میں ایپل نے 'تھنک ڈفرنٹ' کے فلسفے کو اپنایا، جس نے کمپنی کو ایک دیوالیہ ہونے والی کمپنی سے دنیا کی سب سے قیمتی اور بااثر کارپوریشن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جابز کے استعفیٰ کے بعد، ٹم کک کو ایپل کا نیا سی ای او مقرر کیا گیا۔ اس تبدیلی کے وقت ناقدین کی ایک بڑی تعداد کو خدشہ تھا کہ جابز کی غیر موجودگی میں ایپل شاید اپنی جدت پسندی کی رفتار برقرار نہ رکھ پائے گا۔ تاہم، آنے والے برسوں میں ٹم کک نے ثابت کیا کہ ایپل کی بنیاد اتنی مضبوط تھی کہ وہ جابز کے بغیر بھی دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کے طور پر اپنے سفر کو کامیابی سے جاری رکھ سکتی ہے۔ ایپل نے جابز کے بعد بھی آئی فون کے متعدد ماڈلز، ایپل واچ اور دیگر مصنوعات کے ذریعے مارکیٹ میں اپنی اجارہ داری قائم رکھی، لیکن ان تمام کامیابیوں کے باوجود دنیا آج بھی سٹیو جابز کے منفرد اندازِ قیادت اور ان کی پراسرار شخصیت کو یاد کرتی ہے۔ سٹیو جابز کا دور اس بات کی ایک روشن مثال ہے کہ کس طرح ایک لیڈر اپنی سوچ اور لگن سے پوری انسانیت کے طرزِ زندگی کو تبدیل کر سکتا ہے۔ میکنٹوش کمپیوٹر سے لے کر آئی پوڈ اور آئی فون تک، جابز کی مصنوعات نے انسانی رابطوں کے طریقوں میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کیں۔ 24 اگست 2011 کا دن تاریخ میں ایک ایسے لیڈر کی رخصتی کے طور پر درج ہے جس نے ٹیکنالوجی اور ڈیزائن کے سنگم پر ایک ایسی دنیا تعمیر کی جو آج بھی ان کے وژن کی مرہونِ منت ہے۔ اگرچہ وہ اب ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن ان کی میراث ایپل کے ہر پروڈکٹ میں زندہ ہے اور ٹیکنالوجی کی دنیا ہمیشہ ان کی مقروض رہے گی۔ آج کے دن ان کی خدمات کو یاد کرنا دراصل اس انقلابی سفر کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جس نے ہماری ڈیجیٹل زندگی کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔