LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلی: ایچ ون بی فیس میں ہوشربا اضافہ

News Image
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے نئے ایچ ون بی ویزا کے لیے آجروں پر ایک لاکھ تین ہزار دو سو پینسٹھ ڈالر کی بھاری فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس سے قبل جون میں ایک وفاقی جج نے ایسی ہی فیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے روک دیا تھا۔
امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے ایک نئی تجویز سامنے آئی ہے جس کے تحت اب نئے ایچ ون بی (H-1B) ویزا کے حصول کے لیے آجروں کو ایک لاکھ تین ہزار دو سو پینسٹھ ڈالر کی بھاری فیس ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ اقدام امریکی امیگریشن پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی جانب اشارہ کرتا ہے، جس کا براہ راست اثر ان غیر ملکی ٹیکنالوجی ماہرین اور دیگر پیشہ ور افراد پر پڑے گا جو امریکی کمپنیوں میں ملازمت کے خواہشمند ہیں۔ ایچ ون بی ویزا پروگرام بنیادی طور پر امریکی کمپنیوں کو غیر ملکی ہنرمندوں کو بھرتی کرنے کی اجازت دیتا ہے، اور اس نئی فیس کی تجویز کو اس پروگرام کو محدود کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی انتظامیہ کی جانب سے ایسی ہی کوششیں کی گئی تھیں، تاہم جون کے مہینے میں ایک وفاقی جج نے اس طرح کی فیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔ عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ اس قسم کے مالی بوجھ کو قانونی جواز کے بغیر عائد کرنا وفاقی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اب ایک بار پھر اس تجویز کا سامنے آنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ غیر ملکی ورک فورس کے حوالے سے اپنی سخت پالیسیوں پر کاربند ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز حتمی شکل اختیار کر لیتی ہے تو اس سے امریکی ٹیکنالوجی اور کارپوریٹ سیکٹر کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور چھوٹی کمپنیاں غیر ملکی ماہرین کو ملازمت دینے سے گریز کریں گی۔ اس تجویز کے معاشی اثرات کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی زیادہ فیس نہ صرف امریکی کمپنیوں کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کرے گی بلکہ عالمی سطح پر ٹیلنٹ کے حصول میں بھی رکاوٹ پیدا کرے گی۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس کا مقصد امریکی مقامی افرادی قوت کو ترجیح دینا اور کمپنیوں کو مقامی ملازمین کی تربیت پر توجہ مرکوز کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ تاحال اس معاملے پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، اور قانونی ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ معاملہ ایک بار پھر عدالتوں میں جائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا انتظامیہ اس بار اپنے اس فیصلے کو قانونی تقاضوں کے مطابق لاگو کر پاتی ہے یا اسے دوبارہ عدالتی مداخلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔