LIVE
Loading Breaking News...

کوئٹہ کوئلہ کان دھماکہ: 32 مزدور جاں بحق، ریسکیو آپریشن جاری

News Image
کوئٹہ کے قریب سورنگی کے علاقے میں کوئلے کی دو کانوں میں میتھین گیس کا دھماکہ ہونے سے کم از کم 32 مزدور جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں اور مائننگ انجینئرز باقی ماندہ لاپتہ مزدوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کوئٹہ کے قریب سورنگی کے کوئلہ فیلڈ میں واقع نجی کانوں میں میتھین گیس کا زور دار دھماکہ ہونے کے نتیجے میں کم از کم 32 کان کن جاں بحق ہو گئے۔ حکام کے مطابق یہ دلخراش واقعہ جمعرات کی دوپہر کو پیش آیا جب بڑی تعداد میں مزدور زمین کی گہرائی میں کوئلہ نکالنے کے کام میں مصروف تھے۔ دھماکے کے بعد کان کے اندر آگ بھڑک اٹھی جس کی وجہ سے ساخت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا اور اس کی لپیٹ میں ایک قریبی دوسری کان بھی آ گئی۔ بلوچستان کے چیف انسپکٹر آف مائنز محمد عاطف نے میڈیا کو بتایا کہ حادثے کے وقت دونوں کانوں میں مجموعی طور پر 34 مزدور موجود تھے۔ ریسکیو ٹیموں نے رات بھر کارروائی کرتے ہوئے ملبے سے 32 لاشیں نکال لی ہیں جبکہ مزید دو لاپتہ کان کنوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس کی وجہ سے کان کے اندر زہریلی گیس پھیل گئی۔ ریسکیو ٹیموں اور مائننگ ورکرز کو امدادی کاموں کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ کان کے اندر میتھین گیس کی بڑی مقدار اور آگ کے شعلے امدادی راستوں میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ اس المناک واقعے کے بعد صوبائی وزیر برائے کان و معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے جاں بحق ہونے والے ہر مزدور کے لواحقین کے لیے پانچ لاکھ روپے اور زخمی ہونے والے مزدوروں کے لیے تین لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے اس بات کا بھی عزم ظاہر کیا ہے کہ اس پورے حادثے کی شفاف انکوائری کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے حواثات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان میں کان کنی کا شعبہ اکثر حفاظتی انتظامات کی کمی کی وجہ سے خطرناک ثابت ہوتا ہے اور ماضی میں بھی ایسے متعدد دردناک حادثات رونما ہو چکے ہیں جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔