World
ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں مشترکہ بحری حکمت عملی پر اتفاق
ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ نے تہران میں ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات کا اہم مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستوں کو محفوظ بنانا اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے مشن پر تعاون بڑھانا ہے۔
ایران اور عمان کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کا سلسلہ ایک اہم موڑ پر پہنچ گیا ہے، جہاں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے تہران میں ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی حفاظت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے اس آبی راستے کو محفوظ بنانا دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ بین الاقوامی بحری نقل و حمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔
مذاکرات کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے ایک مشترکہ مشن کا قیام ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران اور عمان اس شعبے میں مل کر کام کرتے ہیں تو یہ نہ صرف خلیجی ممالک کی سیکیورٹی کے لیے نیک شگون ہوگا بلکہ اس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ عمان روایتی طور پر خطے میں ایک ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور ایران کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات جی سی سی (GCC) ممالک کے مفادات کے تحفظ میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔
اس دورے کے دوران فریقین نے علاقائی امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بھی غور کیا جس میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پیدا ہونے والی تشویش بھی شامل تھی۔ عمان کے وزیر خارجہ کا دورہ تہران اس وقت ہوا ہے جب خطے کو مختلف سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مبصرین کے مطابق، تہران کی جانب سے عمان کے ساتھ بحری تعاون میں دلچسپی کا اظہار ظاہر کرتا ہے کہ ایران خطے میں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اعتماد سازی کے عمل کو تیز کرنا چاہتا ہے تاکہ غیر ملکی مداخلت کے بغیر علاقائی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
مستقبل قریب میں ان دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے سمجھوتوں کے نتیجے میں بحری راستوں کی نگرانی کے لیے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی جا سکتی ہیں جو آبنائے ہرمز کے قریب کسی بھی ممکنہ خطرے کو ٹالنے کے لیے کام کریں گی۔ یہ پیشرفت نہ صرف ایران اور عمان کے درمیان سفارتی تعلقات کو مستحکم کرے گی بلکہ عالمی برادری کو بھی یہ پیغام دے گی کہ خلیج فارس کے ممالک اپنے آبی راستوں کی حفاظت کے لیے خود مختارانہ اور اجتماعی اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔