Politics
امریکہ: ڈیموکریٹک ووٹرز اسرائیل کو فوجی امداد بند کرنے کے حامی
ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکہ کی ابتدائی چھ ریاستوں میں ڈیموکریٹک ووٹرز کی بڑی تعداد اسرائیل کو امداد فراہم کرنے کے سخت خلاف ہے۔ ووٹرز کی اکثریت کا یہ ماننا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔
امریکہ میں 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے میدان سجنے سے قبل ہی سیاسی جماعتوں کے اندر اہم تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والے ایک اہم سروے کے مطابق امریکہ کی ان ابتدائی چھ ریاستوں میں جہاں پارٹی کے صدارتی نامزدگی کے لیے ابتدائی ووٹ ڈالے جائیں گے، ڈیموکریٹک ووٹرز کی ایک بڑی تعداد اسرائیل کو مزید فوجی یا مالی امداد فراہم کرنے کی سخت مخالف ہے۔ یہ سروے ان حلقوں میں پارٹی کے اندر پائی جانے والی بڑھتی ہوئی بے چینی اور مایوسی کی عکاسی کرتا ہے جو غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔
سروے کے اعداد و شمار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کی اکثریت کا یہ پختہ ماننا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اس عوامی رائے نے آنے والے انتخابات کے لیے پارٹی کی قیادت پر دباؤ بڑھا دیا ہے، کیونکہ اب ووٹرز کا مطالبہ ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کے لیے اندھی حمایت کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ڈیموکریٹک پارٹی کے روایتی موقف میں ایک بڑی دراڑ پیدا کر رہا ہے جو طویل عرصے سے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر قائم تھا۔
انتخابی ماہرین کے مطابق، اگر 2028 کے صدارتی امیدواروں نے عوامی جذبات کے برعکس پالیسی جاری رکھی تو انہیں ان ابتدائی ریاستوں میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈیموکریٹک ووٹرز خاص طور پر نوجوان نسل اور ترقی پسند حلقے، اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ واشنگٹن حکومت اسلحہ کی فراہمی بند کرے۔ یہ صورتحال آنے والے وقت میں امریکی سیاست میں اسرائیل نواز لابی اور ووٹرز کے درمیان ایک بڑے تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
حکومتی حلقوں میں اس سروے کے اثرات نمایاں ہیں کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹرز اتنی بڑی تعداد میں اپنی ہی پارٹی کی خارجہ پالیسی کے خلاف کھل کر آواز اٹھا رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 2028 کے ممکنہ صدارتی امیدوار اس بڑھتی ہوئی مخالفت کو کیسے سنبھالتے ہیں اور کیا وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران اسرائیل کے حوالے سے کوئی نیا اور متوازن موقف اپنانے پر مجبور ہوں گے یا نہیں۔