World
امریکی مصنوعات پر کینیڈا کے نئے ٹیرف، تجارتی جنگ میں شدت
کینیڈا نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد 19.9 ارب ڈالر مالیت کی امریکی اشیاء پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ نئی پابندیاں 8 ستمبر سے باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو جائیں گی۔
کینیڈا نے امریکا کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات کے تعطل کے بعد ایک بڑا اور سخت فیصلہ کرتے ہوئے امریکا سے درآمد ہونے والی 700 سے زائد مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کینیڈین حکام کے مطابق یہ اقدام 19.9 ارب ڈالر مالیت کی امریکی اشیاء پر لاگو ہوگا اور اس کا باضابطہ نفاذ 8 ستمبر سے شروع کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تجارتی تناؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے جو پہلے ہی شمالی امریکی تجارت کے مستقبل پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم کینیڈا کی جانب سے واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے تاکہ وہ اپنے تجارتی رویے میں تبدیلی لائے۔ کینیڈا کے وزیر خارجہ اور تجارتی حکام نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کا ملک اپنی صنعتوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ یہ جوابی ٹیرف خاص طور پر ان شعبوں کو ہدف بناتے ہیں جن سے امریکی معیشت کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے۔ واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے جاری مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے، جس کے بعد کینیڈا نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جوابی کارروائی کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔
اس فیصلے کے اثرات عالمی منڈی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، کیونکہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارت کا حجم انتہائی وسیع ہے اور اس میں کوئی بھی تبدیلی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔ کاروباری حلقوں میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ یہ تجارتی تناؤ اگر طویل رہا تو دونوں ممالک کے صارفین کو اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کینیڈین حکام کا اصرار ہے کہ یہ اقدام غیر منصفانہ تجارتی رویوں کے خلاف ایک متوازن ردعمل ہے اور وہ اب بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے تیار ہیں۔
مستقبل قریب میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی انتظامیہ اس فیصلے کے جواب میں کیا حکمت عملی اپناتی ہے۔ اگر واشنگٹن نے مزید جوابی کارروائی کی تو یہ تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف شمالی امریکہ بلکہ عالمی معیشت کے دیگر حصوں پر بھی پڑیں گے۔ فی الحال، کینیڈا نے اپنی مقامی صنعتوں کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے یہ واضح موقف اختیار کیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے اپنی معاشی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔