LIVE
Loading Breaking News...

گسلیئن میکسویل: امریکی عدالت کا سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ

News Image
امریکی عدالت نے جیفری ایپسٹین کیس کی فائلیں جاری ہونے کے بعد گسلیئن میکسویل کی جانب سے سزا کے خلاف دائر کردہ درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ جج نے میکسویل کے دلائل کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔
امریکی عدالت نے گسلیئن میکسویل کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے جیفری ایپسٹین کے کیس سے متعلق حال ہی میں جاری ہونے والی نئی فائلوں کی بنیاد پر اپنی سزا کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ وفاقی جج نے میکسویل کے اس دعوے کو 'فضول' قرار دیا کہ یہ نئی فائلیں ان کے خلاف انسانی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے مقدمے کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ عدالت کے مطابق ان نئی دستاویزات میں ایسا کوئی مواد موجود نہیں ہے جو میکسویل کے خلاف عائد کیے گئے الزامات اور جیوری کے فیصلے کو تبدیل کرنے کے لیے کافی ہو۔ واضح رہے کہ گسلیئن میکسویل کو دسمبر 2021 میں جیفری ایپسٹین کے لیے نوعمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال میں مدد کرنے کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد میکسویل کی قانونی ٹیم نے متعدد بار اپیل کی ہے جس کا مقصد ان کی 20 سالہ قید کی سزا کو کم کرنا یا اسے ختم کروانا ہے۔ حالیہ اپیل میں میکسویل کے وکلاء کا موقف تھا کہ ایپسٹین کیس سے منسلک جو فائلیں منظرِ عام پر آئی ہیں، ان میں کچھ ایسی معلومات ہیں جن سے ان کے موکل کے دفاع کو تقویت ملتی ہے، تاہم جج نے ان دلائل کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کے بیانات اتنے ٹھوس تھے کہ نئی دستاویزات کے آنے سے قانونی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ میکسویل کی یہ کوشش صرف عدالتی عمل کو طول دینے کا ایک ذریعہ تھی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ گسلیئن میکسویل اس وقت اپنی سزا کاٹ رہی ہیں اور امریکی عدالت کے اس تازہ ترین فیصلے کے بعد ان کی قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کیس نے دنیا بھر میں جنسی استحصال کے نیٹ ورکس اور بااثر شخصیات کے ملوث ہونے کے حوالے سے ایک بڑی بحث چھیڑ رکھی ہے۔ اگرچہ جیفری ایپسٹین جیل میں اپنی زندگی ختم کر چکے ہیں، لیکن ان سے جڑے ہوئے افراد کے خلاف قانونی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ عدالت کا یہ حالیہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی عدالتی نظام اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی کے حق میں نہیں ہے اور قانون کے تقاضوں کو سختی سے پورا کیا جا رہا ہے۔