LIVE
Loading Breaking News...

اسد طور کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا این سی سی آئی اے کو الزامات کی تفصیلات دینے کا حکم

News Image
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو ہدایت کی ہے کہ وہ صحافی اسد طور کو ان کے خلاف جاری کردہ سمن کے معاملے میں تمام الزامات کی تفصیلات فراہم کرے۔ عدالت نے یہ حکم اسد طور کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو ہدایت کی ہے کہ وہ معروف ولاگر اور صحافی اسد طور کو ان کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی تمام تفصیلات فراہم کرے۔ یہ حکم نامہ اس وقت سامنے آیا جب ایجنسی نے بدھ کے روز اسد طور کو ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 جولائی کو اسلام آباد میں قائم سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ ایجنسی کے مطابق یہ انکوائری مبینہ طور پر غلط اور جعلی معلومات کی ترسیل اور عوامی نمائش کے سلسلے میں کی جا رہی تھی۔ اس نوٹس کے خلاف اسد طور نے جمعرات کے روز ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایجنسی نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے اور نوٹس میں الزامات کی کوئی تفصیل درج نہیں کی۔ جمعہ کے روز جسٹس محمد اعظم خان نے اسد طور کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران وکیل صفائی عطااللہ کنڈی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ ان کے خلاف اصل الزامات کیا ہیں، اس لیے وہ پیش ہونے سے پہلے دفاع تیار کرنے سے قاصر ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواست کو اس ہدایت کے ساتھ نمٹایا جا رہا ہے کہ ایجنسی متعلقہ تمام مواد فراہم کرے۔ اس دوران نیشنل پریس کلب نے بھی اسد طور کو نوٹس بھیجے جانے کی شدید مذمت کی اور پریس کی آزادی کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ یاد رہے کہ اسد طور کو رواں سال فروری میں بھی الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور مارچ میں رہا کر دیا گیا تھا۔ اب عدالت کے اس تازہ حکم کے بعد این سی سی آئی اے کے لیے لازم ہو گیا ہے کہ وہ کارروائی سے قبل تمام تفصیلات باضابطہ طور پر فراہم کرے۔