LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ: حکومت کی جانب سے اہم کمیٹی کا قیام

News Image
حکومت نے اربوں ڈالر کے جرمانوں کے خطرے کے پیش نظر پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر تعطل ختم کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنا دی ہے۔ وزیر پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ معاملہ پیرس کی ثالثی عدالت میں زیر سماعت ہے اور حکومت دوستانہ تصفیے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسلام آباد میں حکومت پاکستان نے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے میں حائل دہائیوں پرانے تعطل کو ختم کرنے اور اربوں ڈالر کے ممکنہ جرمانوں سے بچنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سینیٹ میں ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر یہ کمیٹی منصوبے کے قانونی، مالیاتی اور توانائی سے متعلق پہلوؤں کا جائزہ لے گی تاکہ قومی مفاد میں کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔ سینیٹر طلحہ محمود کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران پہلے ہی اپنی سرحد تک پائپ لائن مکمل کر چکا ہے جبکہ پاکستان کو عالمی پابندیوں اور فنڈز کی کمی کے باعث تعمیراتی کام میں تاخیر کا سامنا رہا ہے۔ وزیر پیٹرولیم نے سینیٹ کو آگاہ کیا کہ یہ معاملہ فی الحال پیرس کی ایک بین الاقوامی ثالثی عدالت میں زیر سماعت ہے، جس کا آغاز 2009 میں ہونے والے گیس سیلز اینڈ پرچیز ایگریمنٹ کے بعد ہوا۔ معاہدے کے تحت پاکستان کو دسمبر 2014 تک 781 کلومیٹر لمبی پائپ لائن مکمل کرنی تھی، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر اس میں غیر معمولی تاخیر ہوئی۔ ایران نے 2023 میں پاکستان کو تاخیر پر باقاعدہ نوٹس جاری کیا جس کے تحت بھاری ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حکومت پاکستان اس وقت قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے تہران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تصفیے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ دونوں برادر ممالک کے تعلقات متاثر نہ ہوں۔ حکومتی کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ اگر پابندیاں اٹھائی جاتی ہیں تو پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایران سے گیس کی فراہمی کو کس طرح مربوط کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ایران نے ساؤتھ پارس فیلڈ سے اپنی سرحد تک گیس پائپ لائن کا کام مکمل کر کے بڑی پیش رفت کی ہے۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان کو روزانہ 750 ملین مکعب فٹ گیس کی فراہمی متوقع ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے توانائی کے بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کی افادیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ، وزیر پیٹرولیم نے بلوچستان میں گیس کی قلت کے مسائل پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے اس مسئلے کے حل کے لیے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک الگ اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے، جو صوبے میں گیس کی فراہمی میں تکنیکی خرابیوں اور ادائیگیوں کے مسائل کا جائزہ لے رہی ہے۔ حکومت کا عزم ہے کہ وہ نہ صرف بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرے گی بلکہ مقامی سطح پر توانائی کے بحران کے خاتمے کے لیے بھی عملی اقدامات اٹھائے گی تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔