LIVE
Loading Breaking News...

جے ڈی وانس کا بیان: اہلیہ کو قائل کرنے کا دعویٰ اور عوامی ردعمل

News Image
امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے ایک تقریب کے دوران اپنی اہلیہ اوشا وانس کو قائل کرنے کی اپنی صلاحیت پر فخر کا اظہار کیا ہے۔ اسی دوران ایک اور خاتون کی جانب سے انہیں عوامی مقام پر نظر انداز کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے حال ہی میں ریاست مین (Maine) میں منعقدہ ایک انتخابی ریلی اور تقریب کے دوران اپنی اہلیہ اوشا وانس کے ساتھ تعلقات اور ان پر اپنے اثر و رسوخ کے حوالے سے متنازعہ گفتگو کی ہے۔ وانس نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کو قائل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کے ذریعے وہ اپنی بات منوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان کا یہ بیان سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے، جہاں ناقدین اسے تکبر اور خواتین کے بارے میں روایتی سوچ قرار دے رہے ہیں۔ اس تقریب کے دوران جے ڈی وانس نے نہ صرف اپنی اہلیہ کے حوالے سے بات کی بلکہ اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ عام لوگوں اور سیاسی حریفوں کو بھی اپنی بات منوانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی گفتگو کا انداز ایسا ہے کہ وہ کسی کو بھی اپنے نقطہ نظر سے متفق کرنے کے قابل ہیں۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کی گفتگو سے ووٹرز کے ایک بڑے طبقے، خاص طور پر خواتین ووٹرز میں منفی تاثر پیدا ہو سکتا ہے جو پہلے ہی جے ڈی وانس کے بیانات کو لے کر تحفظات کا شکار ہیں۔ دوسری جانب، تقریب کے دوران ہی ایک اور ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جب ایک نامعلوم خاتون نے جے ڈی وانس کو عوامی مقام پر مکمل طور پر نظر انداز کر دیا اور ان کے ہاتھ ملانے کی پیشکش کو بھی ٹھکرا دیا۔ یہ واقعہ اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جب وانس کا اہلیہ کو قائل کرنے والا بیان پہلے سے ہی سرخیوں میں تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اس قسم کے واقعات جے ڈی وانس کی مقبولیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسے دور میں اپنی ساکھ بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں ان کے بیانات کو بہت باریک بینی سے دیکھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر، جے ڈی وانس کے یہ حالیہ بیانات اور ان کے ساتھ پیش آنے والے عوامی واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ سیاسی میدان میں ایک غیر متوازن راستے پر گامزن ہیں۔ ان کی اہلیہ کے بارے میں دی گئی رائے کو بہت سے لوگ نامناسب قرار دے رہے ہیں، جبکہ خود جے ڈی وانس کی جانب سے اس پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ آئندہ دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ بیانات ان کی انتخابی مہم پر مزید کیا اثرات مرتب کرتے ہیں اور کیا وہ عوامی تاثر کو بدلنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔