World
ایران پر امریکی پابندیاں: عالمی تجارت کے لیے نئی مشکلات
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں اور ممالک کے خلاف ثانوی پابندیوں میں مزید توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی حکومت سے کاروباری تعلقات رکھنے والے عالمی مالیاتی نظام تک رسائی کھو سکتے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کے دائرہ کار میں مزید توسیع کر دی گئی ہے، جسے بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے معاشی محاذ پر ایک بڑا حملہ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ اب وہ ممالک یا ادارے جو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں، ان کے خلاف سخت ترین ثانوی پابندیاں نافذ کی جائیں گی۔ اس پیش رفت کا بنیادی مقصد تہران کو بین الاقوامی مالیاتی دھارے سے مکمل طور پر کاٹ کر اسے معاشی تنہائی کا شکار بنانا ہے۔ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک یا کمپنی ایران کے ساتھ لین دین جاری رکھے گی، اسے امریکی ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے خارج کر دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں ان اداروں کے لیے عالمی تجارت کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
اس نئی حکمت عملی کے تحت امریکہ نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو ایک 'معاشی ڈی ڈے' (Economic D-Day) کی تنبیہ کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کو میزائل پروگرام اور خطے میں مبینہ سرگرمیوں سے باز رکھنے کے لیے ایک دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پابندیوں کے طوفان سے نہ صرف ایران کی داخلی معیشت پر شدید اثرات مرتب ہوں گے بلکہ ان ممالک کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں جو ایران کے ساتھ توانائی اور دیگر شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔ واشنگٹن نے اپنی پالیسی کو 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ناگزیر ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی مارکیٹ میں امریکی اس سخت مؤقف پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ثانوی پابندیوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، بالخصوص ان ممالک کے لیے جو ایران کے ساتھ قریبی تجارتی روابط رکھتے ہیں۔ اگرچہ تہران کی جانب سے ابھی تک ان نئی پابندیوں پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ماضی میں ایران نے امریکہ کے ان اقدامات کو 'معاشی دہشت گردی' سے تعبیر کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ دنیا کے دیگر بڑے ممالک امریکی دباؤ کے سامنے کس حد تک جھکتے ہیں اور اس کا اثر عالمی منڈیوں پر کس نوعیت کا ہوگا۔