Business
والٹ ڈزنی کا بڑا قدم، ایگزیکٹوز کے لیے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ پلان متعارف
والٹ ڈزنی کمپنی نے اخراجات میں کمی کے وسیع تر منصوبے کے تحت اپنے طویل عرصے سے وابستہ ایگزیکٹوز کو رضاکارانہ ابتدائی ریٹائرمنٹ کے پیکجز دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام کمپنی کی جانب سے جاری کفایت شعاری اور ملازمین کی تعداد میں کمی کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
تفریحی صنعت کی معروف کمپنی والٹ ڈزنی نے اخراجات کو کنٹرول کرنے اور انتظامی ڈھانچے کو مزید فعال بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اطلاعات کے مطابق، والٹ ڈزنی نے اپنے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے سینئر ایگزیکٹوز کو رضاکارانہ ابتدائی ریٹائرمنٹ کے پیکجز (Early Retirement Packages) دینے کی پیشکش کی ہے۔ یہ اقدام کمپنی کی جانب سے کیے جانے والے وسیع تر اخراجات میں کٹوتی کے منصوبے کا ایک حصہ ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر کمپنی کے آپریشنز کو زیادہ مستحکم بنانا ہے۔ یہ پیشکش ایک محدود مدت کے لیے متعارف کرائی گئی ہے جس کے ذریعے کمپنی اپنے تنظیمی بوجھ کو کم کرنے کی خواہشمند ہے۔
اس فیصلے کا اعلان کمپنی کی سینئر ایگزیکٹو نائب صدر اور چیف پیپل آفیسر سونیا کولمین کی جانب سے پیر کے روز ملازمین کو بھیجے گئے ایک میمو میں کیا گیا۔ میمو میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ پروگرام خاص طور پر ان ایگزیکٹوز کے لیے ہے جو کمپنی کے ساتھ طویل عرصے سے وابستہ ہیں اور ایک خاص مدت تک اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس اقدام کو تجزیہ کاروں کی جانب سے والٹ ڈزنی کی جانب سے جاری چھانٹیوں اور کفایت شعاری کی پالیسیوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کمپنی طویل عرصے سے اپنے مالیاتی اہداف کے حصول کے لیے مختلف شعبوں میں اخراجات کو کم کرنے اور افرادی قوت کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
والٹ ڈزنی کے اس قدم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کمپنی میڈیا اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں درپیش چیلنجز کے پیش نظر اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہے۔ اس سے قبل بھی کمپنی نے اپنے مختلف محکموں میں ملازمین کی تعداد کم کی ہے تاکہ آپریشنل اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ اگرچہ یہ ایک رضاکارانہ ریٹائرمنٹ پیشکش ہے، تاہم اس کے ذریعے بڑی تعداد میں سینئر قیادت کو فارغ کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے کمپنی کے کل بجٹ پر نمایاں اثر پڑے گا۔ والٹ ڈزنی کا یہ فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بڑی کارپوریشنز اب مشکل مالیاتی دور سے نمٹنے کے لیے انتظامی سطح پر بھی سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہیں۔