Technology
ونڈوز 11 میں نئی میموری مینجمنٹ اپ ڈیٹ، گیمنگ اور اے آئی کے لیے بڑی خبر
مائیکروسافٹ ونڈوز 11 میں ایک نیا فیچر متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے جو صارفین کو گیمنگ اور اے آئی ورک لوڈز کے لیے میموری مختص کرنے کی سہولت دے گا۔ یہ اقدام خاص طور پر بھاری ایپلیکیشنز کے دوران سسٹم کی کارکردگی کو مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مائیکروسافٹ ونڈوز 11 کے صارفین کے لیے ایک بڑی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کمپنی ایک ایسے نئے سیٹنگ فیچر پر کام کر رہی ہے جو صارفین کو اس بات کی اجازت دے گا کہ وہ اپنی یونیفائیڈ میموری (RAM) کا ایک خاص حصہ گیمنگ اور مصنوعی ذہانت (AI) کے بھاری ورک لوڈز کے لیے مختص کر سکیں۔ اس فیچر کا مقصد خاص طور پر ان مواقع پر سسٹم کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے جب بیک گراؤنڈ میں چلنے والی دیگر ایپلی کیشنز سسٹم پر بوجھ ڈالتی ہیں اور گیمنگ کے دوران فریم ریٹ گرنے یا ایپلیکیشن کے کریش ہونے کا باعث بنتی ہیں۔
ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سی پی یو اور جی پی یو کے درمیان ریم کا اشتراک عام حالات میں تو ٹھیک کام کرتا ہے، لیکن جیسے ہی کوئی ہیوی ایپلیکیشن چلتی ہے تو میموری کے وسائل کی کمی کی وجہ سے سسٹم سست ہو جاتا ہے۔ مائیکروسافٹ کا یہ نیا اقدام خاص طور پر NVIDIA RTX Spark جیسی جدید ٹیکنالوجیز کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اب صارفین دستی طور پر یہ طے کر سکیں گے کہ ان کے کمپیوٹر کی میموری کا کتنا حصہ ان کی پسندیدہ گیمز یا اے آئی ٹولز کے لیے مختص رہے گا، جس سے ملٹی ٹاسکنگ کے دوران بھی کمپیوٹر کی رفتار متاثر نہیں ہوگی۔
ماہرین کے مطابق یہ فیچر ان لوگوں کے لیے ایک تحفہ ہے جو ہائی اینڈ گیمنگ کے ساتھ ساتھ اے آئی ماڈلز پر کام کرتے ہیں۔ ونڈوز 11 کی یہ اپ ڈیٹ نہ صرف گیمرز کے تجربے کو ہموار بنائے گی بلکہ کمپیوٹر کی مجموعی پائیداری میں بھی اضافہ کرے گی۔ مائیکروسافٹ کی جانب سے فی الحال اس فیچر کی ٹیسٹنگ جاری ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اسے عام صارفین کے لیے ونڈوز اپ ڈیٹس کے ذریعے جاری کر دیا جائے گا۔ اس تبدیلی سے ونڈوز 11 ایک زیادہ طاقتور اور کسٹمائز ایبل آپریٹنگ سسٹم کے طور پر سامنے آئے گی جو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہارڈویئر کے وسائل کو بہتر طریقے سے منظم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔