LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین جنگ: ویٹیکن کی امن مذاکرات میں شمولیت کی خواہش

News Image
ویٹیکن کے اعلیٰ سفارت کار آرچ بشپ پال رچرڈ گیلاگھر کے دورہ ماسکو کا مقصد یوکرین جنگ کے حل کے لیے انسانی بنیادوں پر سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ہے۔ ہولی سی کا ماننا ہے کہ عالمی امن کے لیے مذاکرات کی میز پر ویٹیکن کی موجودگی ناگزیر ہے۔
ویٹیکن کی سفارتی خدمات کے سربراہ آرچ بشپ پال رچرڈ گیلاگھر کا دورہ ماسکو (24 سے 28 اگست) عالمی سیاست اور یوکرین بحران کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد ہولی سی کی ان سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے جو یوکرین میں جاری جنگ کے اثرات اور انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ ویٹیکن طویل عرصے سے یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ طاقت کے بجائے مذاکرات ہی تنازعات کا واحد حل ہیں، اور اسی لیے وہ اب باضابطہ طور پر یوکرین امن مذاکرات کی میز پر اپنی نشست حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس دورے کے دوران آرچ بشپ گیلاگھر کا ماسکو میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ویٹیکن یوکرین اور روس کے درمیان ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ ویٹیکن کی حکمت عملی کا مرکزی نقطہ انسانی ہمدردی کے مسائل ہیں، جن میں قیدیوں کا تبادلہ، بچوں کی واپسی اور جنگ سے متاثرہ شہریوں کو طبی و غذائی امداد کی فراہمی شامل ہے۔ ہولی سی کا ماننا ہے کہ اگر فریقین کو ایک میز پر بٹھانے کے لیے ویٹیکن کا پلیٹ فارم استعمال کیا جائے تو اعتماد سازی کے عمل کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ویٹیکن کی یوکرین امن مذاکرات میں شرکت کی خواہش محض ایک علامتی قدم نہیں بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی سفارتی پالیسی ہے۔ کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ فرانسس مسلسل جنگ کے خاتمے کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں اور اب ان کے سفارتی نمائندے براہِ راست ماسکو پہنچ کر زمینی حقائق کا جائزہ لے رہے ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اس دورے پر مرکوز ہیں کہ آیا ویٹیکن روس اور یوکرین کے درمیان کسی ممکنہ جنگ بندی یا امن معاہدے کے لیے راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہو پائے گا یا نہیں۔ ویٹیکن کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ عالمی امن کے قیام کے لیے مذہبی سفارت کاری ایک طاقتور ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یوکرین کے مسئلے پر روس اور مغرب کے موقف میں زمین آسمان کا فرق ہے، لیکن ویٹیکن کا غیر جانبدارانہ تشخص اسے ایک ایسے ثالث کے طور پر پیش کرتا ہے جس پر دونوں جانب سے کسی حد تک اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا یہ سفارتی کوششیں کسی بڑے پیش رفت کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی یا یہ محض ایک اور طویل سفارتی عمل کا حصہ رہیں گی۔