LIVE
Loading Breaking News...

میٹا انڈیا کے سربراہ کے خلاف حیدرآباد پولیس کا مقدمہ، تفصیلات

News Image
بھارت کے شہر حیدرآباد کی پولیس نے فیس بک پر وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ توہین آمیز ویڈیوز شیئر کرنے کے معاملے پر میٹا انڈیا کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ واقعہ دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنی اور بھارتی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا تازہ ترین مظہر ہے۔
بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد میں پولیس نے فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا کے انڈیا ہیڈ کے خلاف ایک اہم مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ کارروائی فیس بک پر شیئر کی جانے والی متعدد ایسی ویڈیوز کی بنیاد پر کی گئی ہے جن میں مبینہ طور پر ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کو توہین آمیز انداز میں دکھایا گیا تھا۔ سائبر کرائم کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس وی اروند بابو نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس اس سلسلے میں میٹا پلیٹ فارمز کو باقاعدہ نوٹس جاری کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس معاملے پر تاحال میٹا کی جانب سے کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ نیا قانونی تنازعہ میٹا اور نریندر مودی کی حکومت کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سے قبل رواں ہفتے ہی بھارت کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے میٹا کے اعلیٰ حکام کو طلب کیا تھا جب فیس بک نے مبینہ طور پر وزیر اعظم مودی کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کو عارضی طور پر محدود کر دیا تھا۔ بھارتی حکومت نے اس معاملے پر کمپنی سے اعلیٰ ترین سطح پر وضاحت طلب کی تھی، جبکہ میٹا کے ترجمان نے مؤقف اپنایا تھا کہ وہ پوسٹ تکنیکی خرابی اور نادانستہ غلطی کی وجہ سے بلاک ہوئی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو حالیہ ہفتوں میں ملک بھر میں ہونے والے بڑے پیمانے پر طلبہ احتجاج اور دیگر سیاسی امور کے تناظر میں آن لائن تنقید، لطیفوں اور طنز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میٹا کے لیے صارفین کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہے، جہاں کروڑوں لوگ فیس بک اور اس کے دیگر پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں۔ اس نوعیت کے قانونی اقدامات اور حکومتی دباؤ سے دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے بھارتی مارکیٹ میں کام کرنے کے چیلنجز مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔