World
امریکہ کا ایران پر معاشی وار، آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کا اعلان
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران پر سخت پابندیوں کے نئے سلسلے 'آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ' کے آغاز کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تہران کی مالیاتی صلاحیتوں کو محدود کرکے اسے عالمی معاشی نظام سے الگ تھلگ کرنا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کے روز ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران ایران کی معیشت کے خلاف ایک نئے اور جارحانہ لائحہ عمل کا اعلان کیا ہے جسے 'آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ' کا نام دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ایران کے مالیاتی نیٹ ورکس کو شدید دباؤ میں لانا اور عالمی سطح پر اس کی معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ یہ نئی پابندیاں تہران کے لیے ان معاشی ذرائع کو بند کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی جو مبینہ طور پر علاقائی عدم استحکام کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا کہ امریکہ اب ایران کے خلاف اپنی معاشی پالیسیوں میں مزید سختی لائے گا تاکہ تہران کو بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری پر مجبور کیا جا سکے۔
پریس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ ایران پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کا ہدف ایرانی حکومت کے ان کلیدی شعبوں کو نشانہ بنانا ہے جو ملک کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ اس سلسلے میں بینکاری، توانائی اور تجارتی شعبوں پر خاص طور پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک یا ادارہ ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ لین دین جاری رکھے گا، اسے بھی سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ حکمت عملی وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کے دیرینہ ایجنڈے کا ایک اہم حصہ قرار دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ماہرینِ معاشیات کا خیال ہے کہ اس نئی پالیسی کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے۔ ایران، جو پہلے ہی مغربی پابندیوں کے باعث شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے، اس تازہ ترین حملے کے بعد مزید تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ واشنگٹن میں موجود حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم ایران کی جانب سے مسلسل جارحانہ رویے کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ تہران اس 'معاشی حملے' کے جواب میں کیا حکمت عملی اپناتا ہے اور عالمی برادری ان پابندیوں کے حوالے سے کس قسم کا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔