LIVE
Loading Breaking News...

ایران پر امریکی پابندیاں: سکاٹ بیسنٹ کی عالمی ممالک کو سخت انتباہ

News Image
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے سخت پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مختلف ممالک کو ایران کے ساتھ تجارت ختم کرنے کے لیے ایک مخصوص ڈیڈ لائن بھی دی گئی ہے۔
امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف ایک نئی اور جامع پابندیوں کی مہم کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ بیسنٹ نے عالمی برادری کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کی حمایت کرے گا یا اس کے ساتھ تزویراتی تعاون جاری رکھے گا، اسے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے اپنی پالیسیوں میں تیزی لا رہا ہے۔ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے معاشی نیٹ ورکس کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ تہران کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ذاتی طور پر دنیا بھر کے اہم رہنماؤں سے رابطے کر رہے ہیں۔ ان رابطوں کا بنیادی مقصد مختلف ممالک پر واضح کرنا ہے کہ ایران کے ساتھ ان کے تعلقات اب امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ان ممالک کو ایک مخصوص ٹائم لائن یعنی ڈیڈ لائن بھی دی گئی ہے جس کے اندر انہیں ایران کے ساتھ نشاندہی کردہ سرگرمیوں کو بند کرنا ہوگا۔ اگر یہ ممالک مقررہ مدت کے اندر مطالبات کو پورا نہیں کرتے تو ان پر امریکی اقتصادی پابندیاں لاگو کی جائیں گی، جس سے ان کی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کی یہ پالیسی عالمی تجارت میں ایک نئی کشیدگی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے ممالک جو توانائی کی ضروریات کے لیے ایران پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے ایک مشکل سفارتی امتحان پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صرف ایران کو تنہا کرنے کے لیے نہیں بلکہ خطے میں استحکام لانے کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سخت یکطرفہ پابندیاں عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں اور ایران کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ اب تمام تر نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ عالمی طاقتیں اور ایران کے تجارتی شراکت دار امریکہ کی اس دھمکی کا کیا ردعمل دیتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور امریکہ اپنی قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ پابندیاں ایران کی پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی لانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا عالمی سطح پر ایک نیا سفارتی بحران جنم لیتا ہے۔