LIVE
Loading Breaking News...

جنرل عاصم منیر کا دورہ ایران اور خطے میں امن کی سفارت کاری

News Image
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اپنے دورہ تہران کے دوران خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ مبصرین نے پاک فوج کے سربراہ کی اس کوشش کو امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک مستحسن اقدام قرار دیا ہے۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے حالیہ دورہ تہران کو بین الاقوامی مبصرین اور دفاعی ماہرین کی جانب سے خطے میں امن اور استحکام کی جانب ایک نہایت اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا تھا، جس میں پاکستان نے ایک بار پھر ثالث کا کردار ادا کرنے کی اپنی روایت کو برقرار رکھا ہے۔ ایرانی حکام اور بالخصوص ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں جنرل عاصم منیر نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں تناؤ کے خاتمے کے لیے بات چیت ہی واحد حل ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی یہ کوششیں اس بات کی عکاس ہیں کہ اسلام آباد خطے میں کسی بھی قسم کے بڑے تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا اور وہ خطے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔ تہران میں ہونے والی بات چیت کے دوران دونوں جانب سے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت کی اطلاع ملی ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان ہونے والی ان بات چیت کو عالمی طاقتوں بالخصوص امریکا کے لیے بھی ایک پیغام سمجھا جا رہا ہے کہ خطے کے ممالک اپنے معاملات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنرل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ سفارت کاری نے نہ صرف پاک ایران تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے بلکہ خطے میں ایک نئی سفارتی فضا قائم کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔ اگرچہ موجودہ عالمی سیاسی منظرنامہ کافی پیچیدہ ہے، تاہم پاک فوج کے سربراہ کا تہران کا یہ دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا ضامن بننے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ دورہ اس وقت ہوا جب خطے میں سیکیورٹی چیلنجز عروج پر تھے، اور آرمی چیف نے ان چیلنجز کے باوجود مذاکرات کی میز کو فعال رکھنے پر زور دیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے رابطے جاری رہیں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے اور خطے کو ترقی کی جانب گامزن رکھا جا سکے۔ مجموعی طور پر اس دورے کے اثرات مثبت نظر آتے ہیں اور سفارتی حلقوں میں اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔