Pakistan
جنرل سید عامر رضا کو نشان امتیاز ملٹری دینے کی منظوری
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا کو نشان امتیاز (ملٹری) عطا کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ تقرریاں اور اعزازات گزشتہ سال کی 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ملک کی اعلیٰ فوجی قیادت کی تشکیلِ نو کا حصہ ہیں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جمعہ کے روز باضابطہ طور پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا کو ملک کے سب سے بڑے عسکری اعزاز نشان امتیاز (ملٹری) سے نوازنے کی منظوری دیدی ہے۔ صدر کے سیکریٹریٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ صدرِ مملکت نے جنرل سید عامر رضا کو یہ اعلیٰ ترین اعزاز دینے کی منظوری دیدی ہے۔ یاد رہے کہ جنرل سید عامر رضا کو اس سے قبل ان کی شاندار عسکری خدمات کے اعتراف میں ہلالِ امتیاز (ملٹری) اور ستارہِ بسالت سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
گزشتہ ہفتے حکومت نے ملک کی اعلیٰ فوجی کمانڈ کی تشکیلِ نو کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے جنرل سید عامر رضا کو ملک کا پہلا کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کیا تھا۔ یہ ایک نیا تخلیق کردہ فور اسٹار عہدہ ہے جو پاکستان کی اسٹریٹجک فورسز کے مابین آپریشنل ہم آہنگی اور انضمام کی نگرانی کرے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل سید عامر رضا کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے ترقی دے کر اس نئے عہدے پر تعینات کیا تھا۔ نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا یہ منصب گزشتہ سال نومبر میں نافذ کی جانے والی 27ویں آئینی ترمیم کے تحت عمل میں لایا گیا تھا جس نے پاکستان کے دفاعی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں کیں۔
اس آئینی ترمیم کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ تخلیق کیا گیا تھا جس پر آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر فائز ہیں۔ ترمیم شدہ آرمی ایکٹ کے مطابق کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی تقرری وزیراعظم کی جانب سے چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کی جاتی ہے اور ان کی مدتِ ملازمت تین سال ہوتی ہے۔ یہ نیا دفتر آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے اسٹریٹجک کمانڈز کو ایک واحد کمانڈ اسٹرکچر کے تحت لاتے ہوئے اسٹریٹجک فورسز کے لیے متحدہ آپریشنل ہیڈ کوارٹر کے طور پر کام کرتا ہے، جبکہ وزیراعظم کی سربراہی میں کام کرنے والی نیشنل کمانڈ اتھارٹی کو جوہری پالیسی اور اس کے استعمال پر حتمی اختیار حاصل ہے۔
عہدہ سنبھالنے سے قبل جنرل سید عامر رضا پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے جہاں انہوں نے 27ویں ترمیم اور بھارت کے ساتھ تنازع کے بعد کی تنظیم نو کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ 1988 میں کمیشن حاصل کرنے والے جنرل سید عامر رضا نے اپنے شاندار عسکری کیریئر کے دوران ایک آرمڈ رجمنٹ، آرمڈ بریگیڈ، جنوبی وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ، انفنٹری ڈویژن اور لاہور میں چوتھی کور کی کمانڈ کی۔ وہ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے سربراہ رہنے کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل ویپنز اینڈ ایکوپمنٹ اور کور ہیڈ کوارٹر میں چیف آف اسٹاف کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔