World
فلسطینی سیاسی اتحاد: فتح اور دحلان گروپ کی اہم ملاقات
فلسطینی سیاسی منظر نامے میں اہم پیش رفت کے طور پر فتح اور محمد دحلان کے ڈیموکریٹک ریفارم بلاک نے مصر کے شہر العلمین میں مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ اس ملاقات کا مقصد آئندہ انتخابات کے پیش نظر اختلافات کو ختم کرنا اور ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہے۔
فلسطینی سیاست میں جاری کشمکش اور آئندہ انتخابات کے پیش نظر ایک بڑی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، جہاں صدر محمود عباس کی جماعت فتح اور محمد دحلان کے حمایت یافتہ ڈیموکریٹک ریفارم بلاک کے نمائندوں نے مصر کے شہر العلمین میں باضابطہ طور پر مصالحتی مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب فلسطینی سیاسی حلقوں میں یہ خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں کہ اگر تمام دھڑے متحد نہ ہوئے تو اپوزیشن کا ایک مضبوط اتحاد فلسطینی قیادت کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات فلسطینی عوام کے درمیان پائی جانے والی مایوسی کو ختم کرنے اور تقسیم کو دور کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تصور کیے جا رہے ہیں۔
مذاکرات کے اس پہلے دور میں دونوں گروہوں نے اپنی داخلی صفوں کو منظم کرنے اور ماضی کے تلخ اختلافات کو پس پشت ڈال کر مستقبل کے سیاسی ایجنڈے پر اتفاق رائے پیدا کرنے پر زور دیا ہے۔ محمد دحلان، جو طویل عرصے سے فتح کے اندر ایک اہم اور متنازعہ شخصیت رہے ہیں، اب اپنی سیاسی طاقت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے خواہاں ہیں۔ دوسری جانب فتح کی قیادت کا ماننا ہے کہ اگر فلسطینی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو اندرونی اختلافات کو ختم کیے بغیر اپوزیشن کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔ اس ملاقات میں خاص طور پر اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ کس طرح ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے جو نہ صرف انتخابی عمل میں حصہ لے سکے بلکہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے درمیان موجود خلیج کو بھی کم کر سکے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ العلمین میں ہونے والی یہ ملاقات فلسطینی سیاسی اتحاد کے لیے ایک ٹیسٹ کیس کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ فتح کی داخلی تنظیم نو میں ایک بڑی کامیابی ہوگی، لیکن اگر اختلافات برقرار رہے تو فلسطینی سیاست مزید انتشار کا شکار ہو سکتی ہے۔ عوام کی بڑی تعداد اس عمل کو بغور دیکھ رہی ہے، کیونکہ فلسطینی ووٹرز طویل عرصے سے سیاسی استحکام اور ایک متحدہ قیادت کے منتظر ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا دونوں گروہ اپنے مطالبات میں لچک دکھانے پر آمادہ ہوتے ہیں یا پھر یہ مذاکرات صرف ایک رسمی کارروائی تک محدود رہتے ہیں۔ فی الحال، فریقین نے مزید بات چیت جاری رکھنے اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔