LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی ایران پر نئی پابندیاں، کن اداروں کو ہدف بنایا گیا؟

News Image
امریکہ نے ایران کے تیل، ہتھیاروں اور سائبر آپریشنز سے منسلک 60 سے زائد گروپس اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان پابندیوں کا مقصد ایرانی نیٹ ورک کی مالیاتی اور عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک اور اہم اقدام اٹھایا گیا ہے جس کے تحت ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے تیل، اسلحہ سازی اور سائبر آپریشنز میں ملوث 60 سے زائد مختلف اداروں اور گروپس کو اپنی نئی پابندیوں کی زد میں لے لیا ہے۔ یہ پابندیاں نہ صرف ایران کے اندر موجود گروپس پر لگائی گئی ہیں بلکہ ان میں دیگر ممالک میں موجود نیٹ ورکس کو بھی شامل کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر تہران کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کر رہے تھے۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ اقدام ایرانی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے ان نیٹ ورکس کو کمزور کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلحہ کی ترسیل اور سائبر حملوں میں مصروف ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ان پابندیوں کا بنیادی مقصد ایران کے 'شیڈو نیٹ ورک' کو بے نقاب کرنا ہے جو دنیا بھر میں ایرانی مفادات کے لیے کام کر رہا ہے۔ ان پابندیوں کی فہرست میں شامل ادارے وہ ہیں جو ایران کی پٹرولیم مصنوعات کی خفیہ فروخت، ہتھیاروں کی خریداری اور ڈیجیٹل جاسوسی کے لیے بنیادی کردار ادا کر رہے تھے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات تہران کی جانب سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ناگزیر ہیں اور ان پابندیوں سے ایرانی معیشت پر دباؤ مزید بڑھے گا۔ اس اقدام کے بعد اب ان تمام اداروں کے امریکہ میں موجود اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور امریکی شہریوں یا کمپنیوں کا ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کاروباری لین دین کرنا قانوناً جرم قرار دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کار اس پیشرفت کو امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ایک نیا باب قرار دے رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے تاحال ان پابندیوں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ماضی میں تہران ہمیشہ ان پابندیوں کو غیر قانونی اور یکطرفہ قرار دیتا رہا ہے۔ عالمی سطح پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ پابندیاں ایران کے عسکری اور معاشی نیٹ ورک کو روکنے میں کتنی کامیاب ثابت ہوں گی، کیونکہ ایران پہلے ہی کئی دہائیوں سے ایسی سخت پابندیوں کا سامنا کرنے کا تجربہ رکھتا ہے۔ فی الحال، عالمی منڈیوں میں ایرانی تیل کی سپلائی اور متعلقہ کاروباری اداروں پر ان پابندیوں کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔