LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان

News Image
وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 12 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 11 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کے اطلاق کے بعد پیٹرول 343 روپے 10 پیسے اور ڈیزل 371 روپے 80 پیسے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں جاری اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 12 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 343 روپے 10 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 11 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 371 روپے 80 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ان قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کے مطابق اس اضافے کے بعد حکومت پیٹرول پر 114 روپے جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ عالمی منڈی میں جاری کشیدگی اور ایران امریکا کشمکش کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل ردوبدل ہو رہا ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پہلے ہی اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ عالمی منڈی کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے اب ایندھن کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس سے قبل حکومت ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں تبدیلی کرتی رہی ہے، تاہم اب اوگرا کو اس حوالے سے خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں تاکہ قیمتوں کا تعین شفاف اور بروقت ہو سکے۔ پاکستان میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی کھپت ملکی معیشت میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ پیٹرول بنیادی طور پر نجی سواریوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں استعمال ہوتا ہے، جس سے براہ راست نچلے اور درمیانے طبقے کے بجٹ پر اثر پڑتا ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کا استعمال ہیوی ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں اور پاور پلانٹس میں کیا جاتا ہے، جس کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ماہانہ بنیادوں پر پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت 7 سے 8 لاکھ ٹن تک رہتی ہے، جو ملکی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں جاری حالیہ بحران کے باعث تیل کی سپلائی لائن میں خلل کا خطرہ برقرار ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو محتاط پالیسی اختیار کرنا پڑ رہی ہے۔ حکومت نے اپریل کے مہینے میں ایندھن کی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے ٹارگٹڈ ریلیف کا اعلان بھی کیا تھا تاکہ عام آدمی پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ موجودہ صورتحال میں حکومت ایندھن کے تحفظ اور توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ کے نرخوں سے مطابقت پیدا کرنے پر مجبور ہے، جس کا مقصد معاشی استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔