Technology
ناسا اور لیپ ٹاپس: کیا لینووو تھنک پیڈ اب بھی خلا میں استعمال ہوتے ہیں؟
ناسا نے 2016 کے ہارڈ ویئر ریفریش کے دوران اپنے پرانے تھنک پیڈ ماڈلز کو ترک کر کے نئے لیپ ٹاپس کا انتخاب کیا تھا۔ اب خلائی ایجنسی کے مشنز میں تھنک پیڈز کی جگہ زی بک (ZBook) جیسی جدید ٹیکنالوجی نے لے لی ہے۔
خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا (NASA) اور اس کے استعمال کردہ کمپیوٹرز کا تذکرہ اکثر ٹیکنالوجی کے حلقوں میں دلچسپی کا باعث رہتا ہے۔ طویل عرصے تک لینووو تھنک پیڈ (Lenovo ThinkPad) سیریز کو ناسا کے خلائی مشنز اور زمینی آپریشنز میں ایک قابلِ اعتماد ساتھی سمجھا جاتا تھا۔ خاص طور پر تھنک پیڈ ٹی 61 پی (ThinkPad T61p) ماڈل کو اس کی پائیداری اور کارکردگی کی وجہ سے کافی مقبولیت حاصل تھی، اور یہ طویل عرصے تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اور ناسا کے دفاتر میں استعمال ہوتا رہا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ٹیکنالوجی کی ضروریات میں تبدیلی آئی اور ناسا نے اپنے ہارڈ ویئر کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔
سن 2016 تک، ناسا کے زیر استعمال تھنک پیڈ ٹی 61 پی کا بیڑا چھ سال سے زیادہ پرانا ہو چکا تھا۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں چھ سال کا عرصہ ایک بہت طویل دورانیہ ہوتا ہے، جس کے بعد پرانے آلات کی دیکھ بھال اور انہیں جدید سافٹ ویئر کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ناسا نے ہارڈ ویئر کو مکمل طور پر ریفریش کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس عمل کے دوران، ایجنسی کے پاس موقع تھا کہ وہ زیادہ طاقتور اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ لیپ ٹاپس کی طرف منتقلی کر سکے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں تھنک پیڈ کو الوداع کہا گیا اور ناسا نے ایچ پی (HP) کی زی بک (ZBook) سیریز کو بطور متبادل منتخب کیا۔
زی بک لیپ ٹاپس کے انتخاب کے پیچھے بنیادی وجہ ان کی اعلیٰ پروسیسنگ صلاحیت اور خلائی تحقیق میں درکار انتہائی سخت شرائط کا مقابلہ کرنے کی اہلیت تھی۔ ناسا کا عملہ آج بھی انہی جدید آلات پر انحصار کرتا ہے جو ڈیٹا پروسیسنگ اور خلائی مشنز کی پیچیدہ کیلکولیشنز کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ اگرچہ لینووو تھنک پیڈز نے خلائی تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل کیا اور برسوں تک ناسا کی کامیابیوں میں کردار ادا کیا، لیکن بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کی دنیا میں اب ناسا کا فوکس زیادہ جدید اور تیز رفتار ڈیوائسز پر مرکوز ہے۔ اس تبدیلی نے واضح کیا ہے کہ خلائی ایجنسی ہمیشہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے جدید ترین ہارڈ ویئر کی طرف منتقل ہونے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔