LIVE
Loading Breaking News...

ڈی ڈی آر 5 ریم کی دستیابی میں بوٹس کی بڑی رکاوٹ

News Image
ایک سیکیورٹی تجزیہ کار نے انکشاف کیا ہے کہ ڈی ڈی آر 5 ریم کی آن لائن فروخت کے دوران اسکیلپنگ بوٹس کی تعداد عام صارفین کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہے۔ ریم کی قلت کے باعث خودکار بوٹس کا یہ گروہ مارکیٹ میں مصنوعی بحران پیدا کرنے میں ملوث ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں جہاں ہارڈویئر کی قلت ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے، وہیں ایک سائبر سیکیورٹی تجزیہ کار نے ایک تشویشناک حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ڈی ڈی آر 5 (DDR5) ریم کی فروخت کرنے والے ایک معروف ریٹیلر کی ویب سائٹ پر اسکیلپنگ بوٹس کا غلبہ بڑھ چکا ہے، جہاں ان بوٹس کی تعداد حقیقی انسانی خریداروں کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ دیکھی گئی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف آن لائن شاپنگ کے تجربے کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عام صارفین کے لیے اپنی ضرورت کی ہارڈویئر تک رسائی بھی تقریباً ناممکن بنا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بوٹس انتہائی تیزی سے اسٹاک خرید لیتے ہیں، جس کی وجہ سے حقیقی صارفین خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔ ڈی ڈی آر 5 ریم کی مارکیٹ میں حالیہ قلت کی بڑی وجہ سپلائی چین کے مسائل کے ساتھ ساتھ ان خودکار بوٹس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ہیں۔ یہ اسکیلپنگ بوٹس خاص طور پر اس لیے پروگرام کیے گئے ہیں کہ وہ جیسے ہی کسی ویب سائٹ پر اسٹاک اپ ڈیٹ ہو، فوری طور پر آرڈر پلیس کر دیں۔ چونکہ انسانی ردعمل بوٹس کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس لیے یہ ٹیکنالوجی مافیا مارکیٹ کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیتا ہے اور بعد ازاں ان اشیاء کو بلیک مارکیٹ یا مہنگے داموں دوبارہ فروخت کرنے کے لیے پیش کرتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف شفاف تجارت کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ صارفین کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ ماہرینِ سائبر سیکیورٹی نے اس صورتحال کو ڈیجیٹل دنیا کا ایک نیا چیلنج قرار دیا ہے۔ ریٹیلرز کے لیے اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹس پر جدید سیکیورٹی لیئرز اور بوٹ ڈیٹیکشن سسٹم نصب کریں تاکہ حقیقی صارفین کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اگرچہ کچھ کمپنیاں اس سلسلے میں اقدامات کر رہی ہیں، لیکن بوٹس بنانے والے بھی اپنی تکنیکوں کو مزید جدید بنا رہے ہیں۔ اس کشمکش کے نتیجے میں صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، کیونکہ انہیں اپنی ضرورت کا ہارڈویئر حاصل کرنے کے لیے اکثر اوقات کئی گنا زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ آنے والے وقتوں میں، یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا کمپنیاں اس ڈیجیٹل غنڈہ گردی کو روکنے میں کامیاب ہو پائیں گی یا بوٹس کا یہ راج اسی طرح جاری رہے گا۔