Technology
فوڈ کارڈ سکمنگ فراڈ سے کیسے بچا جائے، مکمل تفصیلات
امریکہ بھر میں فوڈ بینیفٹس فراہم کرنے والے کارڈز کو سکمنگ ڈیوائسز کے ذریعے ہیک کرنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ اس واردات میں دھوکہ دہی کرنے والے افراد شہریوں کے کارڈ کا ڈیٹا چوری کر کے سرکاری امدادی رقوم نکال رہے ہیں۔
حال ہی میں ایک خطرناک اور ملک گیر سطح پر پھیلنے والی فراڈ کی لہر سامنے آئی ہے جس میں فوڈ بینیفٹس اور فوڈ اسٹامپ کارڈز رکھنے والے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دھوکہ دہی کرنے والے افراد ادائیگی کے کاؤنٹرز پر نصب کارڈ ریڈرز کے اوپر خفیہ 'سکمنگ' ڈیوائسز لگا دیتے ہیں، جو گاہک کا کارڈ سوائپ ہوتے ہی اس کا تمام اہم ڈیٹا اور پن کوڈ چرا لیتی ہیں۔ متاثرہ افراد کو اکثر اس وقت تک معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ کوئی واردات ہوئی ہے جب تک کہ وہ اپنے اکاؤنٹ میں موجود رقم چیک نہیں کرتے اور اسے خالی پاتے ہیں۔ یہ اسکیم نہ صرف عام کریڈٹ کارڈز بلکہ حکومتی امداد کے کارڈز کو بھی تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔
اس واردات کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیوائسز اتنی باریکی سے نصب کی جاتی ہیں کہ عام آدمی انہیں پہچان نہیں سکتا۔ جب کوئی صارف اپنا کارڈ مشین میں داخل کرتا ہے تو خفیہ ڈیوائس اس معلومات کو محفوظ کر لیتی ہے جسے بعد میں مجرم اپنے جعلی کارڈز بنانے یا آن لائن خریداری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس قسم کی وارداتیں خاص طور پر ان اسٹورز اور کریانہ کی دکانوں پر زیادہ دیکھی گئی ہیں جہاں سیکیورٹی کا نظام کمزور ہوتا ہے۔ صارفین کی جانب سے اس حوالے سے بڑھتی ہوئی شکایات کے بعد حکام نے بھی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے، تاہم اب بھی ہزاروں خاندان اپنی امدادی رقوم سے محروم ہو چکے ہیں۔
ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کارڈ سوائپ کرنے سے قبل کارڈ ریڈر کا اچھی طرح معائنہ کریں۔ اگر مشین پر کوئی غیر معمولی چیز، ڈھیلا پن یا اضافی حصہ نظر آئے تو اسے استعمال کرنے سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ اپنے کارڈ کا پن کوڈ وقتاً فوقتاً تبدیل کرتے رہنا اور لین دین کا ریکارڈ روزانہ کی بنیاد پر چیک کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر کسی صارف کو اپنے اکاؤنٹ پر کسی بھی مشکوک سرگرمی کا شبہ ہو تو اسے فوری طور پر متعلقہ بینک یا فوڈ بینیفٹ جاری کرنے والے ادارے کو اطلاع دینی چاہیے تاکہ کارڈ کو فوری بلاک کر کے نقصانات کو روکا جا سکے۔ عوامی آگاہی ہی اس قسم کے سائبر کرائمز سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔