Health
کھانے کے وقت اسکرین کا استعمال: نئی سائنسی تحقیق کے اہم نتائج
ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ والدین بچوں کو کھانے کے دوران سوشل میڈیا کے بجائے ٹی وی دکھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ رجحان خاندانی میل جول پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے اور بچوں کی عادات کو تبدیل کر رہا ہے۔
دور حاضر میں ٹیکنالوجی نے ہماری زندگیوں کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے، یہاں تک کہ کھانے کی میز بھی اس سے محفوظ نہیں رہی۔ ایک حالیہ طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کھانے کے دوران بچوں اور بڑوں کی جانب سے اسکرین کا استعمال ایک معمول بن چکا ہے، تاہم حیران کن طور پر اس رجحان میں سوشل میڈیا کے مقابلے میں ٹی وی یا ویڈیو سٹریمنگ کا غلبہ زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو خاموش رکھنے یا مصروف رکھنے کے لیے اکثر ٹی وی یا موبائل فون پر کارٹون لگا دیتے ہیں، جس سے کھانے کا وقت ایک سماجی عمل کے بجائے انفرادی اسکرین ٹائم میں تبدیل ہو گیا ہے۔
تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ 'آئی پیڈ بیبیز' یا اسکرین کے عادی بچوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ریستورانوں یا گھروں میں کھانے کے دوران بچے مکمل طور پر ٹی وی یا اسکرین میں گم رہتے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف ان کی ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے بلکہ خاندانی میل جول اور گفتگو کے مواقع بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ محققین کے مطابق سوشل میڈیا کا استعمال اس عمر کے بچوں میں کم ہے، اس لیے والدین کی اولین ترجیح طویل ویڈیوز یا ٹی وی پروگرامز ہوتے ہیں جو بچوں کو طویل وقت کے لیے مصروف رکھ سکتے ہیں۔ یہ صورتحال بچوں کے لیے توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو کم کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
ماہرینِ صحت نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ کھانے کے دوران اسکرین کا استعمال بچوں میں موٹاپے اور ناقص غذائی عادات کو بھی فروغ دیتا ہے، کیونکہ بچہ کھانا کھاتے ہوئے اس بات پر توجہ نہیں دیتا کہ وہ کیا کھا رہا ہے اور کتنی مقدار میں کھا رہا ہے۔ کھانے کے دوران اسکرین کا استعمال نہ صرف خاندانی اقدار کو متاثر کر رہا ہے بلکہ بچوں میں جذباتی وابستگی اور سماجی رابطوں کی کمی کا باعث بھی بن رہا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ والدین کو کھانے کے اوقات میں اسکرین کو مکمل طور پر بند کر کے بچوں کے ساتھ بات چیت کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ان کی سماجی اور ذہنی صلاحیتیں بہتر ہو سکیں۔